انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 106 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 106

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث 1+4 سورة البقرة کے کچھ اور پہلو بھی ہیں جنہیں میں مثال کے طور پر بیان کر دیتا ہوں۔ایمان بالغیب کا تعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور آپ کی شخصیت اور وجود پر ایمان لانے سے بھی ہے اس پاک و مطهر وجود کا ایک حصہ ایک دور کے انسان پر ظاہر ہوتا اور ایک بڑا حصہ ہر دور کے انسان کی نظر سے غائب رہتا ہے مثلاً ایک پہلو جو ہم آپ کی ذات کا لیں وہ محسن ہونے کا ہے ہر صدی کے حالات واحوال کے اختلافات کی وجہ سے اس احسان عظیم کی بعض پوشیدہ باتیں سامنے آتی ہیں۔پہلی صدی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اس ایمان پر قائم ہونا کہ قیامت تک کے لئے آپ ایک عظیم محسن کی حیثیت رکھتے ہیں آپ پر ایمان لانے کا ایک پہلو ہے پہلی صدی میں اس احسان عظیم کے کچھ جلوے ظاہر ہوئے لیکن وہ جلوے تو ظاہر نہیں ہوئے جن کے نتیجہ میں ہم یہ کہہ سکیں کہ آپ قیامت تک کیلئے دنیا کے محسن اعظم ہیں پہلی صدی کے بعد قیامت تک آپ کے احسان کے جو پہلو انسان کے سامنے آنے تھے پہلی صدی کے لئے وہ جلوے پردہ غیب میں تو تھے لیکن ان پر ایمان لانا ضروری تھا ورنہ ایمان بالرسول نہ ہوتا لیکن صرف یہ فقرہ کہ ہمارے محسن ہیں، حقیقی ایمان نہیں حقیقی ایمان یہ ہے کہ ہمارے بھی محسن ہیں اور قیامت تک بنی نوع انسان کے بھی محسن ہیں اور یہ ایمان بالغیب ہے جس کا تعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے ہے مثلاً آج کی دنیا انقلابات کی دنیا ہے ایسے انقلابات بھی آئے کہ جن کا ایک حصہ غلبہ اسلام کی مہم میں ممد ثابت ہوا اور ہو رہا ہے لیکن ایک حصہ ایسا تھا جو نوع انسانی کے ایک بڑے حصہ کو خدا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے دور لے جانے والا تھا۔یہ جو مسائل آج کی دنیا کے لئے پیدا ہوئے ان مسائل کو حل کرنے کے لئے ہمارے محسن اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تعلیم بھی دی اور ان حالات میں اپنا ایک اُسوہ بھی ہمارے سامنے پیش کیا۔یہ باتیں پہلی صدیوں کے انسانوں کے لئے غیب کا حکم رکھتی ہیں اور آج کے بعد قیامت تک جو مسائل نوع انسانی کے لئے پیدا ہوں گے ان کے حل کے لئے قرآنی تعلیم کے وہ پہلو جن کا ان مسائل کے ساتھ تعلق ہے اور آپ کے اُسوہ کے وہ جلوے جن کا اس زمانہ کے انسان کے ساتھ تعلق ہے آج ہمارے لئے غیب ہیں۔پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت تک کیلئے نوع انسانی کا محسن سمجھ کر ایمان لانا اس ایمان میں غیب کا ایک بڑا حصہ ہے اور قرائن قویہ مرتجمہ کی وجہ سے ہم ایمان لاتے ہیں مثلاً پہلی صدی کے انسان