انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 100
تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث امسح سورة البقرة ترقیات روحانی راہوں پر کرتا چلا جائے۔تربیت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ جو امت مسلمہ میں نئے نئے شامل ہوں بیعت کر کے یا ولادت کے نتیجہ میں، ان کو اسلام کے رنگ میں صحیح طور پر رنگنا اور سچا مسلمان بنانے کی کوشش کرنا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ کتاب هدی لِلْمُتَّقِينَ ہے اس میں اس طرف اشارہ کیا کہ تقویٰ کے بلند مقام پر پہنچنے کے باوجود انسان کو اللہ تعالیٰ کی ہدایت کی ضرورت رہتی ہے اور اس ضرورت کو یہ قرآن پورا کر رہا ہے۔متقیوں کے لئے ہدایت کا سامان اس کے اندر پایا جاتا ہے۔اللہ تعالی نے اسی مضمون کو دعائیہ الفاظ میں دوسری جگہ اس طرح بیان کیا ہے کہ رَبَّنَا لَا تُزِعُ قُلُوبَنَا بَعْدَ اذْهَدَيْتَنَا ( ال عمران:۹) کہ ہدایت تیرے فضل سے ہمیں حاصل ہو جائے پھر بھی یہ خطرہ لاحق رہے گا کہ ہمارے دلوں میں کسی قسم کی کجی نہ پیدا ہو جائے۔پس ہم تیرے حضور عاجزانہ دعا کے ذریعہ جھکتے ہیں اور یہ التجا کرتے ہیں کہ جب ہمیں ہدایت حاصل ہو جائے ، صراط مستقیم ہمیں مل جائے ، ہمارے دل سیدھے ہو جا ئیں ، تو اس کے بعد ہمارے دلوں میں کوئی کبھی نہ پیدا ہو۔۔۔۔۔۔بهر حال هدى لِلْمُتَّقِينَ میں اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں ایک تو یہ فرمایا کہ ہدایت پا جانے کے بعد بھی تمہیں ہدایت پر قائم رہنے کے لئے ایک ہدایت کی ضرورت ہے اور وہ قرآن کریم میں پائی جاتی ہے اور دوسرے اللہ تعالیٰ نے اشارہ یہ فرمایا کہ قرآن کریم ہدایت کا سامان اپنے اندر رکھتا ہے ( دوسری جگہ بڑی وضاحت سے اسے بیان کیا ہے ) اور اشارہ بتایا گیا ہے کہ جو ہدایت یافتہ نہ ہوں بڑے ہوں، شعور رکھنے والے ہوں لیکن ابھی ان پر اسلام کی حقیقت واضح نہ ہوئی ہو یا بچپن سے بڑے ہو رہے ہوں اور ابھی اس قسم کا شعور ان میں پیدا نہ ہوا ہو جو بھی صورت ہو نئے سرے سے ہدایت دینے کے سامان قرآن کریم میں پائے جاتے ہیں اور قرآن کریم نے بڑا زور دیا ہے کہ تربیت کے اس پہلو کو بھی ہمیشہ مد نظر رکھو اور اس میں بھی غفلت سے کام نہ لو۔دوسرا محاذ جہاں ہمیں چوکس رہنا چاہیے اور اس کی طرف سورۃ بقرہ کے شروع میں ہی اللہ تعالیٰ نے ہمیں متوجہ کیا ہے وہ یہ ہے کہ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ کے مضمون کے متعلق آیات بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ وَانْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ کہ ایک دوسری جماعت یا