انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 96 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 96

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۹۶ سورة البقرة فرماتا ہے: اِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي مَقَامِ آمِيْنِ کہ متقی یقینا ایک امن والے اور محفوظ مقام میں ہیں تو یہی وہ حصن حصین ہے۔یہی "امین" کے معنی ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کئے ہیں کہ محفوظ اور امن میں وہی ہے جو تقویٰ پر مضبوطی سے قائم ہوتا ہے جو تقویٰ پر قائم نہیں وہ امن میں نہیں وہ خطرہ میں ہے وہ حفاظت میں نہیں خوف کی حالت میں ہے اور ایسا شخص مقام امین میں نہیں ہے بلکہ اس مقام پر ہے جسے دوسرے لفظوں میں جہنم کہا جاتا ہے۔پس قرآن کریم نے ہی تقویٰ کے معنوں کو بیان کرتے ہوئے معنوی لحاظ سے حصن حصین کا تخیل پیش کیا ہے کہ سوائے تقویٰ کی راہوں پر چل کر کوئی شخص امن میں نہیں رہ سکتا کوئی اور ذریعہ نہیں ہے اس مضبوط قلعہ میں داخلہ ہونے کا سوائے تقویٰ کے دروازے کے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی مضمون کو ایک دوسری جگہ اس طرح بیان فرمایا ہے۔ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتقاء ہے ہر نیکی خواہ وہ قولی ہو یا فعلی وہ تقویٰ کی جڑ سے نکلتی ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم نے جو سینکڑوں احکام دیئے ہیں جب ہم ان پر عمل کرتے ہیں اور اس رنگ میں عمل کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی جنت میں داخل ہونے کا ذریعہ بنیں اور اللہ تعالیٰ کی جنت کے درختوں کی شاخیں ہو جائیں اور ان درختوں کے لئے پانی کا کام دیں تو یہ اس وقت ہوتا ہے جب یہ شاخیں تقوی کی جڑ سے نکلیں۔۔۔۔۔۔پس ہر ایک نیکی کی جڑ یہ اتقاء ہے۔جو شخص تقویٰ کی جڑ تو نہیں رکھتا لیکن بظاہر ہزار قسم کی نیکیاں بجالاتا ہے اسے فائدہ ہی کیا کیونکہ اس سے وہ شاخیں نہیں پھوٹ سکتیں جو خدائے رحمن تک پہنچتی ہیں نہ وہ پھل لگ سکتے ہیں جو پھل کہ دوسری صورت میں ان شاخوں کو لگا کرتے ہیں اور روحانی سیری کا موجب بنتے ہیں۔اس مضمون کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن کریم کی تفسیر کرتے ہوئے ایک دوسری جگہ یوں بیان فرمایا ہے کہ 66 حقیقی تقویٰ اپنے ساتھ ایک نور رکھتی ہے۔آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۷۷) ہر وہ پاک اعتقاد یا عمل صالح جونور کے ہالہ میں لپٹا ہوا نہیں وہ رڈ ہونے کے قابل ہے اور رڈ کر دیا جاتا ہے لیکن جب انسان کا قول اور فعل تقویٰ کے نور کے ہالہ میں لپٹا ہو تو اللہ تعالیٰ کو