انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 95
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۹۵ سورة البقرة ہی اور اس کے متعلق آگے جا کر میں کچھ بیان کروں گا۔پس یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کامل نیک (آل پر ) وہ ہے جو تقویٰ کی تمام راہوں پر گامزن ہے اور فرما یا اتقوا اللہ کہ بنیادی حکم تمہیں یہ دیا جاتا ہے کہ تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اگر تم تقویٰ اختیار کرو گے تو تمام نیکیاں بھی بجالاؤ گے اور تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔ایسی کامیابی کہ جس کی نظیر دنیا میں نہیں ، تقویٰ کے بغیر تم نہیں پاسکتے۔حقیقت یہی ہے کہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایام الصلح (ایاما میں فرمایا ہے۔تقویٰ ہر ایک بدی سے بچنے کے لئے قوت بخشتی ہے اور ہر ایک نیکی کی طرف دوڑنے کے لئے حرکت دیتی ہے۔ایام الصلح روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۳۴۲) اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ فرمایا کہ جب تک انسان تقومی کی راہوں کو اختیار نہ کرے روح کے ان خواص اور قویٰ کی پرورش کا سامان اس کو قرآن شریف سے نہیں مل سکتا جس کو پا کر روح میں ایک لذت اور تسلی پیدا ہوتی ہے۔یہ بھی وہی مضمون ہے جو ھدًی لِلْمُتَّقِينَ میں بیان کیا گیا ہے کہ تقویٰ کے بغیر روح کے ان خواص اور قومی کی پرورش کا سامان اس کو قرآن شریف سے نہیں مل سکتا حالانکہ قرآن کریم تو وہاں موجود ہے جس کو پا کر روح میں ایک لذت اور تسلی پیدا ہوتی ہے۔اس مضمون کو کہ تقویٰ کا تعلق تمام ہی نیکیوں سے ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مختلف پیرایوں میں بیان کیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ” تقویٰ ہر ایک قسم کے فتنہ سے محفوظ رہنے کے لئے حصن حصین ہے“۔(ایام اصلح روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۳۴۲) تقویٰ ایک ایسا قلعہ ہے کہ جب اس کے اندر نیک اقوال اور صالح اعمال داخل ہو جائیں تو وہ شیطان کے ہر حملہ سے محفوظ ہو جاتے ہیں۔لیکن اگر کوئی عمل بظاہر کتنا ہی پاکیزہ اور صالح کیوں نظرنہ آتا ہوا گر وہ اس قلعہ میں داخل نہیں تو شیطان کی زد میں ہے، کسی وقت وہ اس پر کامیاب حملہ کر سکتا ہے کیونکہ اگر تقویٰ نہیں تو کبر پیدا ہو سکتا ہے، ریاء پیدا ہو سکتا ہے، جب پیدا ہو سکتا ہے اگر تقویٰ ہے تو ان میں سے کوئی بدی پیدا نہیں ہو سکتی یعنی شیطان کا میاب وار نہیں کر سکتا۔اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ قرآن کریم میں یہ مضمون بیان فرمایا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ابھی جو فقرہ میں نے پڑھا ہے وہ معنوی لحاظ سے اسی کا ترجمہ ہے۔اللہ تعالیٰ سورہ دخان : ۵۲ میں