انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 94 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 94

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۹۴ سورة البقرة اپنی جدو جہد سے تقویٰ کی راہوں پر مضبوطی سے قدم نہیں مارسکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تقویٰ کے یہ معنی کئے ہیں۔آپ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم میں فرماتے ہیں اور تقویٰ یہ ہے کہ انسان خدا کی تمام امانتوں اور ایمانی عہد اور ایسا ہی مخلوق کی تمام امانتوں اور عہد کی حتی الوسع رعایت رکھے یعنی ان کے دقیق در دقیق پہلوؤں پر تا بمقدور کار بند ہو جائے“۔(براہین احمدیہ جلد پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۱۰) قرآن کریم نے تقویٰ کے اس معنی کو مختلف مقامات پر بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلكِنَّ اللهَ حَبَّبَ اِلَيْكُمُ الْإِيمَانَ وَ زَيَّنَه فِي قُلُوبِكُمْ وَكَرَّةَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ أوليكَ هُمُ الرَّشِدُونَ۔(الحجرات : ۸) یہاں بھی تقوی کے معنی ایک نہایت حسین پیرا یہ میں بیان کئے گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے فضل سے ایمان کی محبت تمہارے دلوں میں پیدا کی وَ زَيَّنَة فِي قُلُوبِكُمْ اور تمہارے دلوں کو اس نے اپنے فضل سے اس حقیقت تک پہنچا دیا کہ حقیقی روحانی خوبصورتی تقوی کے بغیر ممکن نہیں اور نہ روحانی بدصورتی سے تقویٰ کے بغیر بچا جا سکتا ہے۔تو ایک طرف تقویٰ ہر حکم الہی کی بجا آوری میں بشاشت پیدا کرتا ہے اور دوسری طرف ہراس چیز سے نفرت پیدا کرتا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے باہر نکالنے والی اور اس کی ناراضگی کو مول لینے والی ہو۔یہاں تقویٰ کے متعلق ہی ایک لطیف مضمون بیان ہوا ہے جس کی تفصیل میں تو میں اس وقت نہیں جاؤں گا بہر حال یہ اشارہ کافی ہے۔اسی وجہ سے سورہ بقرہ کے شروع میں ہی فرمایا تھا ھدی للْمُتَّقِينَ اور سورہ بقرہ میں ایک دوسری جگہ آگے جا کے آیت ۱۹۰ میں یہ فرمایا وَ لكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقَى - وَاتَّقُوا اللهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔کامل نیک وہ ہے جو تقویٰ کی تمام راہوں کو اختیار کرتا ہے یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ البر کامل نیک وہ شخص نہیں جو اپنے اوقات کو نمازوں میں زیادہ خرچ کرتا ہے اپنے اموال کو خدا کی مخلوق کی محبت میں اور ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے خرچ کرتا ہے یا حج کرتا ہے یا رمضان کے روزے رکھتا ہے بلکہ کامل نیک وہ ہے جو تقویٰ کی راہوں کا خیال رکھتا ہے جو شخص تقویٰ کی راہوں کا خیال رکھتا ہے باقی اعمال صالحہ یا اقوال پاکیزہ جو ہیں وہ اسی طرح اس سے نکلتے ہیں جس طرح ایک جڑ سے کسی درخت کی شاخیں نکلتی ہیں جس کی مثال دی گئی ہے تقویٰ کے سلسلہ میں