قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے — Page 71
قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے ( قرآن مجید کی 26 آیات پر اعتراضات کے جوابات) اس آیت کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مرزا طاہر احمد صاحب خلیفتہ المسیح الرابع فرماتے ہیں: ان آیات میں منافقین اور یہود میں سے اُن فتنہ پردازوں کا ذکر ہے جو مدینہ میں مسلمانوں کے خلاف جھوٹی من گھڑت باتیں پھیلاتے رہتے تھے۔رسول اللہ الا ایام سے اللہ نے وعدہ فرمایا ہے کہ تو اُن پر غالب آجائے گا اور یہ تیرے شہر کو چھوڑ کر چلے جائیں گے۔اس وقت یہ اللہ کی لعنت کے نیچے ہوں گے اور ایسے حالات ہوں گے کہ جہاں کہیں بھی وہ پائے جائیں اُن کا مواخذہ کرنا اور قتل کرنا جائز ہوگا۔اعتراض آیت نمبر: (k)2 وَ مَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِرَ بِايَتِ رَبِّهِ ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْهَا إِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِينَ مُنتَقِمُونَ ( سورة السجدة،سورۃ نمبر 32 آیت 23) ترجمہ: اور کون اس سے زیادہ ظالم ہوسکتا ہے جو اپنے رب کی آیات کے ذریعہ اچھی طرح نصیحت کیا جائے پھر بھی اُن سے منہ موڑ لے؟ یقیناً ہم مجرموں سے انتقام لینے والے ہیں۔71