قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے — Page 54
قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے ( قرآن مجید کی 26 آیات پر اعتراضات کے جوابات) غزوہ سے واپس تشریف لا رہے تھے آپ نے وہ لوگ جو غزوہ سے واپس آئے تھے ان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تمہاری آمد بہت اچھی آمد ہے اور تم جہاد اصغر( یعنی چھوٹے جہاد ) سے جہادا کبر کی طرف آئے ہو صحابہ نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول جہادا کبر کیا ہے آپ نے جواب میں فرمایا بندے کا اپنی خواہشات کے خلاف جہاد۔پہلے درجے کا جہاد وہ ہے جو انسان اپنے نفس کے خلاف کرتا ہے۔اسلام میں سب سے بڑا جہاد یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو گناہوں سے بچائے ، نیک اور اچھے کام کرے اور جب ایک مسلمان اپنے آپ کو پاک کر لیتا اور باعمل بن جاتا ہے تو اسے دوسرے درجے کا جہاد جہادکبیر ) کرنے کا حکم ہے۔جیسا کہ فرمایا۔جَاهِدُهُمْ بِه جِهَادًا كَبِيرًا ( سورة الفرقان ،سورۃ نمبر 25 آیت نمبر 53) تو قرآن مجید کی تعلیمات کو دوسروں تک پیار ومحبت ، دلائل و برھان سے پہنچا۔جماعت احمدیہ کے اکثر افراد بفضلہ تعالی دن رات جہاد کبیر میں مصروف ہیں، تیسرے درجے کا جہاد سب سے چھوٹا جہاد ( جہاد اصغر ) کہلاتا ہے۔یہ صرف اس وقت کرنے کی اجازت ہے جبکہ مسلمان ربنا اللہ کہنے کی وجہ سے ظلم کئے جائیں۔اور ایسی حالت میں اگر 54