قندیلیں — Page 187
عہد نبھانے کی توفیق عطا فرمانا۔ابا جان دعا کے بعد معلوم نہیں کن سوچوں میں تھے کہ اپنے ہا تھ سے اپنی ٹانگ کے گہرے زخم میں اپنی زخمی ہڈی کو ٹولا تو خدا کی قدرت۔ہڈی کا کچھ ٹکڑا جو گلا ہوا تھاٹوٹ کر آپ کے ہاتھ میں آگیا اور ٹانگ کا زخم کچھ عرصہ کے بعد دوائیوں کے استعمال کرنے سے بھر گیا اور آپ نے چلنا پھرنا شروع کر دیا۔ابا جان نے اپنے رحیم و کریم رب سے باندھا ہوا عہد اس کی دی ہوئی توفیق سے اپنے آخری سانس تک نبھایا۔تہجد کی نمازوں میں گڑ گڑا کر دعا کرنے کی آواز میرے کانوں میں اس وقت بھی محسوس ہو رہی ہے جس دن ہمیں داغ مفارقت دیا اس رات بھی عشاء کی نماز سے فارغ ہو کر سوئے مگر تہجد پڑھنے کا وقت خدا تعالیٰ نے نہ دیا اور سوئے ہونے کی حالت میں ہی آپ کو اپنے پاس بلا لیا۔(مصباح چون باد صفحه ۱۸) وسعت حوصلہ محترم چودھری اسد اللہ خاں صاحب پر ۱۹۳۴ ء میں معاندین کی طرف سے قاتلانہ حملہ ہوا۔اس کی تفصیل مکرم مدیر صاحب مصباح تحریر فرماتے ہیں کہ آپ بذریعہ ترین دلی جا رہے تھے۔رات کا وقت تھا۔آپ رضائی اوڑھ کر لیٹے ہوئے تھے لیٹے لیٹے آپ کو خیال آیا کہ آپ کے سر کی سمت گرد زیادہ محسوس ہوتی ہے۔چنانچہ آپ نے سر ٹانگوں کی طرف کر لیا اور ٹانگیں سر کی جگہ پر لے آئے۔آپ کے سوتے ہوئے کسی معاند نے چھرے کا دار کیا۔جو آپ کی دونوں ٹانگوں کے درمیان لگا۔اور رضائی اور بستر کو چیز کر کری میں گھس گیا۔حملہ آور آپ کو اپنی دانست میں قتل کر کے بھاگ گیا۔رات کسی وقت آپ نے رضائی کھینچی تو کھینچی نہ گئی۔آپ نے اٹھ کر دیکھا تو چھرا گڑا ہوا تھا۔آپ نے چھرا اسکالا۔اور اسے سرہانے رکھ کر دوبارہ سو گئے۔(ضمیمہ ماہنامہ مصباح ستمبر )