قندیلیں

by Other Authors

Page 173 of 194

قندیلیں — Page 173

آپ نظریں نیچی رکھا کریں حضرت ماسٹر محمد طفیل صاحب مرحوم کی گردن ہمیشہ اس طرح جھکی رہتی تھی کہ زیادہ سے زیادہ اپنے پاؤں سے آگے ایک ڈیڑھ فٹ تک دکھائی دیتا ہوگا۔آپ نے کبھی نظریں اٹھا کر آگے کی طرف نہیں دیکھا تھا۔ہم سوچتے تھے کہ آپ چلتے کس طرح سے ہوں گے۔کہیں آپ کو ٹھو کر ہی نہ لگ جائے۔لیکن نہ صرف یہ کہ آپ کو ٹھوکر نہیں لگتی تھی۔آپ خدا کے فضل سے بہت تیز تیز چلنے کے عادی تھے۔پورا لباس شلوار قمیض کے اوپر کوٹ کے بغیر ہم نے آپ کو کبھی نہیں دیکھا۔جب یہ معلوم کرنے کی کوشش کی گئی کہ آخر آپ کی گردن جھکی جھکی کیوں رہتی ہے۔کیونکہ یہ خیال بھی آسکتا تھا اور آیا بھی کہ شاید آپ کی گردن میں کوئی نقص ہوگا کہ آپ اسے سیدھی نہیں کر سکتے۔اور آگے گی طرف کھینچنے سے معذور ہوں۔لیکن بات یہ نہیں تھی۔کہتے ہیں کہ جوانی میں آپ بہت خوبصورت تھے اور جب باہر سے غالباً بالہ سے تشریف لائے تو حضرت امام جماعت اول سے آپ نے عرض کیا کہ میں جدھر سے بھی جاتا ہوں خواتین میری طرف دیکھتی ہیں مجھے اس سے بہت الجھن پیدا ہوتی ہے تو حضرت امام جماعت نے فرمایا۔آپ نظریں نیچی رکھا کریں۔ویسے تو سب کو ہی نظریں نیچی رکھنے کا ارشاد ہے لیکن عام طور پر سمجھا یہ جاتا ہے کہ جب ضرورت پڑی نظریں نیچی کرلیں ورنہ بالکل سیدھے دیکھ کر چلا جائے۔لیکن جب آپ نے حضرت امام جماعت کی یہ بات سنی کہ آپ نظریں نیچی رکھا کریں تا کہ آپ کسی خاتون کو دیکھ نہ سکیں۔آپ انہیں دیکھنے سے روک نہیں سکتے تو آپ نے گردن