قندیلیں

by Other Authors

Page 155 of 194

قندیلیں — Page 155

دد ان کی زندگی کا ایک مشہور واقعہ ہے کہ ایک دفعہ سخت بیمار ہوئے یہ بیماری بہت طوالت پکڑ گئی۔اس اثناء میں ان کے پاس ایک ملا، آیا اور اس نے سمجھا کہ مرض کا بہت زور ہے تو وہ باہر نکل کر کواڑ کے پیچھے اس انتظار میں کھڑا ہو گیا کہ کب دم نکلتا ہے اور عورتیں رونا شروع کرتی ہیں۔وہ اس حالت میں کھڑا تھا کہ آپ کی نظر اس پر پڑ گئی۔فرمانے لگے۔ملا چلے جاؤا بھی تو میرے ہیں سال باقی ہیں۔تو کب تک انتظار کرے گا۔چنانچہ آپ اس کے بعد ایک عرصہ تک زندہ رہے۔والفضل ۲۴ اکتوبر 1 ۱۹۹۵ء لو وہ فرشتہ آیا مکرم میرمهدی حسین صاحب دارالامان نقل مکانی کرنے کے بعد کا واقعہ بیان فرماتے ہیں۔ایام قیام دار الضعفاء قادیان میں ایک دن میرا ہاتھ خالی تھا کہ ایک ارائیں موضع ننگل متصل قادیان سے گاجر بیچنے آیا۔اور آواز دی میرے بچے لیکے اور کہا گاجریں لے دور میں نے کہا جب اچھی گاجریں آدیں گی تو لے لیں گے۔گاجر فروش کہنے لگا میری گاجریں میسٹی میں کھا کر دیکھ لو۔اور وہ گاجریں بچوں کے ہاتھ میں دے دیں۔انہوں نے کہا ابا جی ، گاجریں میٹھی ہیں۔لے لو میں نے تو کل صلی اللہ دو پیسے کی گاجریں لے دیں۔بچے لے کر گھر پہنچے تو ان کی والدہ نے کہاں بھیجا کہ گاجریں شیریں میں اور بھیج دو اور یہ اشد ضرورت سمجھ کر لی گئیں مگر پیسہ میرے پاس نہ تھا۔اس اثناء میں ایک غریب تو احمدی نے کہا کہ مجھے بھی در پیسے کی گاجریں لے دیں