قندیلیں

by Other Authors

Page 119 of 194

قندیلیں — Page 119

۱۱۹ نیو مارکیٹ کے متعلق عام کہاوت ہے کہ یہاں دنیا کی ہر شے دستیاب ہے موٹر پاریس سے لے کر نافہ تک لیکن اطمینان قلب یہاں پر بھی نہیں ملتا۔کسی قیمت پر فی زمانہ دل کا سکون حاصل کرنے کے لئے یہی طریق ہے کہ ٹیکسی کے ہم روپے بچا کر ان لوگوں پر خرچ کئے جائیں جو ٹرام کے دس پیسوں کی بھی استطاعت نہیں رکھتے تمام دنیوی معاملات میں آپ کا یہی دستور رہا۔لیکن دین کے لئے آپ بیدریغ خرچ کرتے رہے تابعین اصحاب احمد جلد دہم ص ۱۴۱ - ۱۴۲) زر مبادلہ فی سبیل الله خرچ کر دیا گیا مکرم میاں منیر احمد صاحب بانی اپنے والد ماجد مکرم میاں محمد صدیق صاحب بانی کا ذکر خیر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ ۱۹۶۴ء میں کلکتہ کے 14 احمدی احباب حج بیت اللہ شریف کی نیت سے بھٹی گئے۔اپنے پاسپورٹ اور دیگر کا غذات مکمل کروائے اور زرمبادلہ بھی داخل کروایا لیکن روانگی سے ایک دن قبل معلوم ہوا کہ بعض علماء کی انگیخت سے متاثر ہو کر سعودی حکومت نے ان سولہ احمدیوں کو ویزا دینے سے انکار کر دیا۔اس اطلاع سے عازمین حج کو بہت دکھ پہنچا مگر خوشی ہوئی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشگوئی پوری ہوئی جس میں حضور نے فرمایا تھا که آخری زمانہ میں بعض عازمین حج کو حج کرنے سے روکا جائے گا۔ان ۱۶ عازمین میں محترم میاں محمد صدیق صاحب بانی بھی تھے۔ویزے کے انکار کے بعد میاں محمدصدیق صاحب بانی نے فرمایا کہ جب قریش مکہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جمع کرنے سے روکا تھا تو آپ اور صحابہ کرام نے اسی جگہ اپنی قربانیاں کر دی تھیں چنانچہ