قندیلیں

by Other Authors

Page 62 of 194

قندیلیں — Page 62

۶۳ زنده خدا زندہ نشاں حضرت مصلح موعود ایک بزرگ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔کہ ایک دفعہ ایک قرض خواہ ان کے پاس آگیا۔اور اس نے کہا کہ آپ نے میری اتنی رقم دینی ہے اس پر اتنا عرصہ گزر چکا ہے۔اب آپ میرا روپیہ ادا کر دیں۔انہوں نے کہا کہ میرے پاس تو ہے نہیں ، جب آئے گا دے دوں گا۔وہ کہنے لگا تم بڑے بزرگ بنے پھرتے ہو اور قرض لے کر ادا نہیں کرتے۔یہ کہاں کی شرافت ہے۔اتنے میں وہاں ایک حلوہ بیچنے والا لڑ کا آ گیا۔انہوں نے اس سے کیا آٹھ آنے کا حلوہ دے دو لڑکے نے حلوہ دے دیا اور انہوں نے وہ حلوہ قارض کو کھیلا دیا۔لڑکا کہنے لگا۔میرے پیسے میرے حوالے کیجئے۔وہ کہنے لگے تم آٹھ آنے مانگتے ہو میرے پاس تو دو آنہ بھی نہیں۔وہ لڑ کا شور مچانے لگ گیا۔یہ دیکھ کر وہ قرض خواہ کہنے لگا کہ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ میری رقم تو ماری ہی تھی اس غریب کی اٹھتی بھی ہضم کر لی۔غرض وہ دونوں شور مچاتے رہے اور وہ بزرگ اطمینان سے اپنی جگہ بیٹھے رہے۔اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے اپنی جیب میں سے ایک پڑیا نکال کر انہیں پیش کی اور کہا فلاں امیر نے آپ کو نذرانہ بھیجا ہے انہوں سے اسے کھولا تو اس میں رو پے تو اتنے ہی تھے جتنے قرض خواہ مانگتا تھا۔مگر اس میں اٹھتی نہیں تھی۔کہنے لگے یہ میری پڑیا نہیں اسے واپس لے جاؤ۔یہ سنتے ہی اس کا رنگ فق ہو گیا۔اس نے جھٹ اپنی جیب سے ایک دوسری پریانکالی اور کہنے لگا مجھ سے غلطی ہو گئی۔آپ کی یہ پڑیا ہے۔انہوں نے اسے کھولا تو اس میں اتنے ہی روپے تھے جو قارض مانگ رہا تھا اور ایک اٹھنی بھی تھی۔انہوں نے دونوں کو بلایا 51940 اور وہ روپے انہیں دے دیئے۔(روز نامه الفضل صفحه ۳ - ۲ فروری شاه )