قندیلیں — Page 43
۴۳ لئے جو سوالات ذہن میں آئیں وہ پیش کر کے دنیا کی روحانی تشنگی کو بجھانے کا سامان پیدا کر لینا چاہیے۔بلکہ اپنے مخصوص انداز میں یوں فرمایا کرتے تھے کہ " یہ لوگ خدا تعالیٰ کے باجے ہوتے ہیں۔جتنا ان کو بجا لیا جائے اتنا ہی اچھا ہے (حیات النور ص ۲۶۲) دھیلہ بخوشی قبول کر لیا حضرت مولانا حکیم مولوی نور الدین صاحب خلیفتہ المسیح اول نے بیان فرمایا ہے کہ ایک بوڑھی غریب عورت جس کا ایک ہی لڑکا تھا۔بیمار پڑ گیا۔میں نے اس کا علاج کیا۔خدا کے فضل سے اس کو صحت ہو گئی اور وہ بالکل تندرست ہو گیا۔دہ بڑھیا میرے پاس آئی اور میرے سامنے ایک دھیلہ (نصف پیہ) رکھ کر کہنے لگی کہ جناب میں بہت غریب ہوں اور بیوہ ہوں۔محنت مزدوری کر کے گزارہ کرتی ہوں میرے پاس تو اور کچھ نہیں ہے صرف ایک ہی دھیلہ ہے جو کہ میں بطور نذرانہ شکریہ کے پیش کرنا چاہتی ہوں۔اگرچہ آپ کے مقام اور شان کے اعتبار سے باعث شرم و ندامت تھا لیکن میں یہی پیش کر سکتی ہوں۔آپ اس کو ضرور قبول فرمائیں اور رو نہ کریں۔حضور نے فرمایا میں نے بخوشی اس دھیلہ کو قبول کر لیا اور حضرت اقدس مسیح موعود کی اس نصیحت کو پیش نظر رکھا کہ طبیب کو بلا مانگے اگر کوئی شخص کچھ بھی دے تو وہ رو نہ کرے ہیں دھیلہ کو ہاتھ میں لے کر دل میں سوچنے لگا کہ اگر یہ دھیلہ اللہ کی راہ میں دے دوں تو حسب آیت مثلِ حَبَّكَ اثْنَتَتْ سَبعَ سَنَابِلَ فِي كُل سنبلة مائة حبة مجھے سال میں سات سونک دھیلے مل سکتے ہیں۔اور اگر اِن سات سود میلوں کو بھی اللہ کی راہ میں دے دوں تو ہر ایک دھیلے کے عوض سات