قندیلیں — Page 165
140 مبارک کی دوسری چھت پر بہشتی مقبرہ کی طرف منہ کئے ہوئے تشریف فرما ہیں اور حضور کے پاس ایک رجسٹر ہے جس میں جنتی لوگوں کے نام لکھے ہوئے ہیں۔میں حضور اقدس کے پیچھے کھڑا ہوں اور خیال کرتا ہوں کہ نہ معلوم اس رسبر میں میرا نام بھی ہے یا نہیں۔میرا یہ خیال کرنا ہی تھا کہ حضور اقدس نے اس رجسٹر کے اوراق الٹنے شروع کر دئیے۔یہاں تک کہ ایک صفحہ پر لکھا ہوا میں نے پڑھا ر مولوی غلام رسول را جیکی اور اس کے بعد میں بیدار ہو گیا۔الحمدللہ علی ذلک رحیات قدسی حصہ دوم ص ۹) خواب نے صراط مستقیم دکھا دیا ڈاکٹر محمد رمضان صاحب مرحوم اپنے احمدیت کی قبولیت کی سعادت ملنے کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں یہ مجھے علم تو اتنا تھا نہیں اور نہ ہی حمد یہ لٹریچر کا کوئی مطالعہ تھا کہ دلائل و براہین سے فیصلہ کر سکتا۔ادھر گو ہر قصور سے ہمکنار ہونے کی کشش کسی وسیع مطالعہ سے مانع تھی۔آخر میں سوجھی کہ ایک ہی در ہے جو کہ بارگاہ الہی کا ہے۔جو تمام منزلوں کو کاٹ دیتا ہے اس پر گرنا چاہیئے چنانچہ میں نے چند دن رو رو کر دعائیں کیں اور وہ رحیم و کریم خدا جو ہر پکارنے والے کی پکار کو سنتا ہے میری فریاد کو پہنچا اور اس نے مجھے اپنی نوازشات سے مالا مال کر دیا۔ایک رات میں نے خواب میں دیکھا کہ میں وضو کر رہا ہوں بارا عالم ایک روشنی سے جو کہ آسمان سے نازل ہو رہی ہے بقعہ نور بن رہا ہے۔جب میں وضو سے فارغ ہو کر کھڑا ہوا تو ہا تھوں سے فالتو پانی چھڑکنا چاہتا ہوں ایسا کرتے وقت جب انگلیاں خمیدہ ہو کہ ہتھیلی کے قریب آگئیں تو ان کے