قندیلیں — Page 152
۱۵۲ سعادت حاصل ہو۔ایک دن صاحبزادہ انور احمد صاحب نے خاکسار کو بیس کے اڈہ پر قریباً ۱۲ بجے دن فرمایا کہ حضرت صاحب پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کو فرمارہے تھے کہ اسد اللہ خان کو اطلاع کر دیں کہ وہ ایک بجے دوپہر بیت الفضل آئے۔نہیں نے یہ خیال کر کے کہ اگر کسی کام سے لاہور وغیرہ بھی بھیجوانا ہوا تو لیس کا وقت نہ نکل جائے۔اڈہ سے بیت الفضل نیک کا فاصلہ دوڑ کر طے کیا۔جب میں بیت الفضل پہنچا تو میرا سانس بہت چڑھا ہوا تھا اور حضرت صاحب پرائیویسی سیکرٹری صاحب کے خیمہ کے دروازہ پر کھڑے کچھ ہدایات فرمالے ہے تھے۔خاکسار نے سلام عرض کیا تو آپ نے فرمایا۔آپ تو معلوم ہوتا ہے دوڑتے ہوئے آئے ہیں۔خاکسار نے اطلاع ملنے کا سارا واقعہ عرض کیا تو فرمایا ہمارے چند عزیز دوپہر کے کھانے پر آرہے ہیں۔آپ کو بھی کھانے پر بلایا ہے۔خاکسار کے کپڑے خوب صاف نہ تھے۔خاکسار نے اپنے کپڑوں کی طرف دیکھا حضرت صعاب نے فور انتبسم ہو کر فرمایا یہ ہم نے آپ کو کھانے پر بلایا ہے آپ کے کپڑوں کیلئے نہیں کیا بتاؤں کہ اس وقت کس قدر خوشی اس عاجز کو ہوئی۔یوں معلوم ہوتا تھا جیسے فرط انبساط سے میرا دل فیل ہو جائے گا۔جب کھانے پر بیٹھے تو قادیان سے اُسی دن حضرت صاحب کے باغ سے آم ڈلہوزی پہنچے تھے۔ایک نہایت ہی اعلیٰ اور کافی بڑا اہم حضرت صاحب نے برف لگے پانی سے نکال کر اس میں سے ایک چوسی لے کر خاکسار کو یہ کہہ کر مرحمت فرمایا یہ آپ یہ کھائیں ، خاکسار نے وہ آم لے لیا اور رومال میں لپیٹ کر اچکن کی جیب میں اس خیال سے ڈال لیا کہ شانتی کٹی میں جاکر یہ تبرک اپنی بیوی بچوں سمیت کھاؤں گا۔تھوڑی دیر بعد فرمایا آپ نے آم کھا بھی لیا " میں نے عرض کیا رکھ لیا ہے تاکہ عزیزی اعجاز وغیرہ کو