قندیلیں

by Other Authors

Page 84 of 194

قندیلیں — Page 84

۸۴ طاہر احمد - آپ نے یہ بات بہت اچھی لکھی ہے۔بتائیے۔میں آپ کو کیا انعام دوں۔میرا دل بہت خوش ہوا ہے۔بتائیں آپ کو کیا چیز پسند ہے۔تو اس بچہ نے جس کی عمر اس وقت ہے - اسال کی تھی۔برجستہ کہا۔اللہ۔نیر صاحب حیران ہو کر خاموش ہو گئے۔میں نے کہا۔نیر صاحب اگر طاقت ہے تو اب میاں صاحب کی پسندیدہ چیز دیجیئے مگر آپ کیا دیں گے۔اس چیز کے لینے کے لئے تو آپ خود ان کے والد کے قدموں میں بیٹے ہیں۔دتا بعین اصحاب احمد جلد سوم ، سيرة أنتم طاہر صفحه ۱۲۳) اصلاح کے لئے بدنی سزا حضرت خلیفہ المسیح الرابع تحریر فرماتے ہیں کہ امتی بچوں کی لڑائی کبھی اپنے بچوں کا ناجائز ساتھ نہیں دیتی تھیں۔ایک دفعہ میری اور صفی اللہ کی لڑائی ہوگئی۔ہم دونوں کا جتنا بیس چلا ایک دوسرے کو مارا گھر آکر جب میں نے لڑائی کا ذکر کیا تو امی نے بھی میری خوب پٹائی کی اور مرمت کی کہ کیوں لڑتے پھرتے ہوا بھی مجھے مار کوٹ کو فارغ ہوئی ہی تھیں کہ ممانی جان صفی اللہ کی والدہ کی غصہ بھری شکایت پہنچی کہ آپ کے بیٹے نے میرے بیٹے کو مارا ہے۔امی نے نوکر سے کہا کہ جا کر کہہ دو کہ آپ کا پیغام آنے سے پہلے ہی میں نے طاہر کو مار کر ادھ موا کر دیا ہے بے شک آکر دیکھ لیں۔ویسے قصور دونوں کا ہے اور دونوں نے ایک دوسرے کو مارا ہے۔د تا بعین اصحاب احمد جلد سوم بسيرة أم طا ہر صفحه ۲۳۸) میت پر پھول ڈالنا پسندیدہ نہیں حضرت ام طاہر کا کفن با کل سفید کپڑے کا تھا۔میت پر نہ تو کس قسم کار نگدار