قندیلیں — Page 57
۵۷ کے لئے مور کتبہ سکھر سے قادیان آیا تو اس شخص کی ہمشیرہ نے دوسری بہن کا رشتہ اس کا رنگ قدرے خوبصورت ہونے کی وجہ سے طلب کیا۔یہ مطالبہ بخت تکلیف دہ تھا۔فیصلہ اور تیاری ایک شادی رچانے کی تھی اور عین وقت پر مطالبہ دوسری کے متعلق کر دیا گیا۔ان دنوں حضرت امام اول حضرت مسیح موعود کے مکان کے پچھواڑے قیام رکھتے تھے۔آپ کی عادت تھی کہ عبادت عشاء کے بعد کسی سے گفتگو نہ کرتے تھے۔خاموش جلدی گھر چلے جاتے۔بابو صاحب دروازے کے پاس جا کھڑے ہوئے اور دریافت کرنے پر قصہ عرض کیا۔فوراً فرمایا۔آپ میرے مرید ہیں۔ابھی جا کر اسے کہہ دیں کہ ہم تمہیں کوئی بھی رشتہ نہیں دیتے۔آپ نے اپنی اہلیہ صاحبہ کو بھی اطلاع کر دی۔جو حضرت اماں جان کے پاس قیام رکھتی تھیں۔چنانچہ دونوں میاں بیوی کی ڈھارس بندھ گئی۔حضرت امام اول کی ناراضگی کا علم پا کر اس شخص کی ہمشیرہ محترمہ، الیت حضرت امام اول کے پاس پہنچیں کہ ہم پہلا رشتہ ہی قبول کرتے ہیں۔ہم بھول گئے حضرت مولوی صاحب ہمیں معاف کر دیں۔ان کی طرف سے اہلِ بیت حضرت مولوی صاحب نے بہت منت سماجت کی حتی کہ رات بارہ ایک بجے آپ نے معافی دی۔اور بعد عبادت فجر آپ نے دار المسیح میں اپنی اہلیہ صاحبہ کو بھی اطلاع کر دی جو حضرت اماں جان کے پاس قیام فرما تھیں۔حضرت امام اول نے خفیہ نکاح میں دردناک زبان میں فرمایا کہ اس رشتہ کے بارہ میں نہیں بہت تکلیف ہوئی ہے۔ہمارا دوست فقیر علی سندھ سے آیا ہے بہت نیک اور سادہ ہے۔انہیں اور ان کے گھر والوں کو بہت تکلیف ہوئی ہے۔میں نے بہت دعا کی ہے یا تو اچھی اصلاح ہو جائے گی۔یا طرفین میں سے کسی کو خدا خود سنبھال لے گا۔