قندیلیں — Page 56
۵۶ سے کمہ کو چار پائی منگوائی۔آپ چار پائی پر لیٹ گئے۔آپ کے سر میں پانی ڈالا۔مگر خون بند نہ ہوا۔میں نے اپنی پگڑی سے خون صاف کیا جو نصف کے قریب جان آلود مفی تھوڑی دیر کے بعد آپ کو ہوش آیا تو فرمایا یہ حضرت بانی سلسلہ کی بات پوری ہو گئی میرے دریافت کرنے پر کہ کونسی بات ؟ فرمایا۔کیا آپ نے اخبار میں نہیں پڑھا کہ حضرت بانی سلسلہ نے میرے گھوڑے سے گرنے کی خواب دیکھی تھی۔تیسرے روز آپ نے خون آلودہ پگڑی منگوا بھیجی۔میں اس کے ساتھ حاضر ہوا تو فرمایا کہ وہ پکڑی مجھے دے دو۔میرے توقف پر آپ میرا مطلب سمجھ گئے فرمایا۔اچھا۔اسے دھلوا دو اور استعمال کرو لیکن ٹکڑے ٹکڑے کر کے لوگوں میں تقسیم نہ کرنا اور مجھے ایک نئی پگڑی بھی عنایت فرمائی۔الفضل ۲۸ اگست ه ص ۴) حضرت امام جماعت اول کی شفقت محترم بابو فقیر علی صاحب تحریر فرماتے ہیں یہ میری ہمشیرگان کی منگنیاں اس زمانے کے رواج کے مطابق اس وقت کی گئی تھیں جبکہ وہ ابھی گود میں تھیں۔لیکن میں نے احمدیت کی وجہ سے اپنے غیر احمدی اقارب سے قطع تعلق کر لی تھی اور انکے رشتوں کے لئے حضرت امام اول کی خدمت میں عرض کیا تھا۔آپ نے پہلے یہ مشورہ دیا کہ اقارب کو احمدی بنانے کی کوشش کی جائے لیکن یہ کوشش کامیاب نہ ہوئی۔اور حضرت امام اول کی خدمت میں عرض کیا گیا۔اور اخبارات الحکم یا بدر میں بھی اعلان کرایا تھا۔حضرت صاحب کے مشورہ سے بھیرہ کے ایک احمدی سے جو پولیس میں محرکہ تھا ہمشیرہ فاطمہ صاحبہ کا رشتہ طے ہوا۔جب رخصتا نہ دینے