قندیلیں

by Other Authors

Page 47 of 194

قندیلیں — Page 47

اس لئے نذرانہ وغیرہ کی رقم لے لیتے اور مطابق حکم خرچ کرتے رہے تھے اب حساب مانگنے پر بہت گھبرائے اور لگے لکھنے مگر حساب لکھا ہوا نہیں تھا۔کچھ یاد نہ آیا۔دیر ہو گئی۔آپ بار بار حساب طلب فرماتے۔ایک روز جب فرما یا حساب لاؤ تو وہی جو تھوڑا بہت لکھا تھا۔ڈرتے ڈرتے لے گئے تو حضور نے دیکھ کر فرمایا حساب میں فلاں فلاں آمد اور خرچ درج نہیں تو حکیم صاحب کی گھیرا ہٹ کی کوئی حد نہ رہی۔یہ حال دیکھ کر فرمایا۔مولوی صاحب ہم جانتے ہیں آپ دیانت دار ہیں۔آپ نے خیانت نہیں کی جاؤ حساب ٹھیک ہے۔فرمایا۔آپ حسابا کیسیرا کی تفسیر پوچھتے تھے اسی طرح قیامت میں بھی ہوگا۔تب مولوی صاحب کی جان میں جان آئی۔یہ مفہوم تھا۔(اصحاب احمد جلد سوم صفحه ۴) دوسرے کے اعمال اور نظر سے حضرت المسیح الاول فرماتے ہیں کہ میں نے ایک چور سے پوچھا تمہیں چوری کرنا برانہیں معلوم ہوتا۔وہ کہنے لگا بر کیونکر معلوم ہو۔ہم محنت و مشقت کرتے ہیں۔اور کماتے ہیں اور بڑی بڑی تکلیفیں اٹھاتے ہیں۔یونہی تھوڑا کہیں سے اٹھا لاتے ہیں۔فرماتے تھے۔یہ سن کر میں نے اس سے کچھ اور پائیں شروع کر دیں اور تھوڑی دیر کے بعد پوچھا تم مال آپس میں کس طرح تقسیم کرتے ہو۔اس نے کہا۔ایک سنار ساتھ شامل ہوتا ہے اسے سب زیورات دے دیتے ہیں۔وہ گلا کر سونا بنا دیتا ہے یا چاندی یا جیسا زیور ہو۔پھر مقرر شدہ حصوں کے مطابق ہم تقسیم کر لیتے ہیں۔میں نے کہا۔اگر اس میں سے کچھ رکھ لے تو پھر وہ کہنے لگا۔اگر وہ ایسا کرے تو ہم اس بدمعاش پور کا سر نہ اڑا دیں۔وہ اس کے باپ کا مال ہے کہ اس میں سے رکھ نے اس مثال سے