قندیلیں — Page 20
ہو کر زیارت کرا دیں اور بڑے رونے اور اصرار کے ساتھ کہا کہ ابھی جاؤ" الفضل ۱۷ اگست ۱۱۹۹۴) کون پیا ہے کون پریمی حضرت مولوی عبدالکریم۔۔۔صاحب کی وفات پر جو ا ا ر اکتوبر ۱۹۰۵ء کو واقع ہوئی حضرت بانی سلسلہ کو اس قدر صدمہ ہوا کہ چند دن گزرنے کے بعد حضرت اندس۔۔۔نے شام کے بعد دوستوں میں بیٹھنا چھوڑ دیا اور خدام کے عرض کرنے پر فرمایا کہ جب میں باہر دوستوں میں بیٹھا کرتا تھا تو مولوی عبد الکریم۔۔۔صاحب میرے دائیں طرف بیٹھے ہوتے تھے۔اب میں بیٹھنا ہوں تو مولوی صاحب نظر نہیں آتے تو میرا دل بیٹھنے لگتا ہے۔اس لئے مجبوراً میں نے یہ طریق چھوڑ دیا ہے۔, الفضل ۱۶ اگست ۱۹۹۴) اطاعت - احترام حضرت خلیفة المسیح اول مثنوی مولانا روم کا درس دیا کرتے تھے چو ہدری خفر اللہ خاں صاحب کو بھی ، اپنے والد محترم کے ہمراہ آپ کی صحبت کا موقعہ ملتا رہا۔آپ فرماتے ہیں یہ مجھے خوب یاد ہے کہ بعض دفعہ اس درس کے دوران میں کوئی آدمی کہہ دیتا کہ حضرت مسیح موعود باہر تشریف لائے ہیں تو یہ سنتے ہی حضرت خلیفہ اول درس بند کر دیتے اور اٹھ کھڑے ہوتے اور چلتے چلتے پگڑی باندھتے جاتے اور جوتا پہننے کی کوشش کرتے اور اس کوشش کے نتیجے میں اکثر آپ کے جوتے کی انٹریاں دب جایا کرتی تھیں۔جب آپ حضرت مسیح موعود کی مجلس میں تشریف فرما ہوتے تو جب