قندیلیں — Page 192
خدا سے وہی لوگ کرتے ہیں پیار جو سب کچھ ہی کرتے ہیں اُس پر نشار اسی فکر میں رہتے ہیں روز و شب کہ راضی وہ دلدار ہوتا ہے کب؟ اُسے دے چکے مال و جاں باربار ابھی خوف دل میں کہ ہیں نابکار لگاتے ہیں دل اپنا اُس پاک سے وہی پاک جاتے ہیں اس خاک سے (درثمین )