قندیلیں — Page 175
دا حصول تعلیم میں مشقت چوہدری نصر اللہ خان صاحب فرماتے تھے کہ اب تو تعلیم کے لئے اتنی سہولتیں ہوگئی ہیں اور پھر بھی تم لوگ کئی قسم کے بہانے کرتے ہو۔ہمارے وقت میں تو سخت مشکلات تھیں۔اول تو اخراجات کی سخت تنگی تھی۔میں نے پر سات سال کا عرصہ لاہور میں بطور طالب علم کے گزارا اور اور نبیل کالج سے بی۔اور ایل کا امتحان پاس کیا۔اور پھر مختاری اور وکالت کے امتحان پاس کئے۔اس تمام عرصہ میں گھر سے ایک پیسہ نہیں منگوایا۔جو وظائف ملتے رہے۔انہیں پر گزارا کیا۔گھر سے صرف آٹا لے جایا کرتے تھے۔اور وہ صرف اس مقصد کے لئے کہ اس تمام عرصہ میں لاہور میں کبھی سیر ہو کر کھانا نہیں کھایا۔وظیفہ بھی چار روپے ماہوار اور پھر چھ روپے اور آٹھ روپے ماہوار تھا۔پھر قانون کے امتحانوں کے لئے یہ وقت تھی کہ اکثر کتابیں انگریزی میں تھیں اور انگریزی نہ جاننے والے طلباء کو بڑی رقت کا سامنا ہوتا تھا کیونکہ کئی کتب کے تراجم میسر نہ تھے۔چنانچہ ایک دفعہ آپ لالہ لاجپت رائے صاحب کے ساتھ حصار اس غرض کے لئے گئے تھے کہ وہاں کے وکیل صاحب کی زیر نگرانی ایسے مضمون کی تیاری کریں جس کے نصاب کی کتب کا اردو میں ترجمہ میتر نہیں تھا۔ان دنوں ابھی حصار تک ریل نہیں بنی تھی۔اور بہت سا حصہ سفر کا بهلی یا یکہ کے ذریعے کرنا پڑتا تھا۔باوجود ایسی مشکلات کے آپ مختاری اور وکالت دونوں امتحانوں میں اول رہے اور اس میلہ میں چاندی اور سونے کے تمغے انعام میں پائے۔(میری والده از چودھری ظفر اللہ خان صاحب ص ۸)