قندیلیں — Page 117
میرے پاس کافی سامان تھا۔جب لاہور والی گاڑی سانگلہ پل پہنچی تو تین چار بجے کا وقت تھا۔اتفاق سے کوئی قلی نہ مل سکا۔میں نے پلیٹ فارم پر اتر کر دریافت کیا کہ حافظ آباد جانے والی گاڑی کب روانہ ہوگی۔ایک شخص نے بتایا کہ وہ گاڑی سامنے پلیٹ فارم پر تیار کھڑی ہے اور روانہ ہونے والی ہے۔میں اتنا سامان خود ہی اٹھا کر پلیٹ فارم کی شیر میں پر چڑھا۔ابھی دوسرے پلیٹ فارم پر اترا ہی تھا کہ گاڑی چل دی۔میں اس کام کی اہمیت کے پیش نظر دوڑتا ہوا اور دعا کرتا ہوا گا ر ڈ کے ڈبے تک جا پہنچا اور بڑے الحاج سے اسے کہا کہ مجھے بہت ضروری کام ہے۔گاڑی ڈرا روکیں یا آہستہ کریں تاکہ میں سوار ہو جاؤں۔میں اس طرح گاڑی کے ساتھ دوڑتا جاتا تھا اور اللہ تعالی سے بڑے تضرع سے دعا کر رہا تھا کہ پلیٹ فارم ختم ہوگیا اور گاڑی بھی زیادہ تیز ہوگئی میں سخت مایوس افسردہ اور رنجیدہ ہوا۔یہ کام سلسلہ کا تھا۔مجھ سے جہاں تک ہو سکا کوشش کی اور نهایت عاجزی سے اللہ تعالیٰ کے حضور بھی عرض کرتا رہا۔لیکن اس نے میری التجا کو نہ سُنا اور میری دعا کو جو نہایت اہم مقصد کے لئے تھی منظور نہ فرمایا۔اب میں کیا کرتا۔مجھے سخت رکھے اور درد محسوس ہو رہا تھا۔اسی حالت میں میں پلیٹ فارم پر بیٹھ گیا۔ایک شخص نے اس طرح دیکھ کر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ آپ کو کہاں جاتا ہے۔افسوس ہے کہ آپ گاڑی سے رہ گئے ہیں نے کہا کہ مجھے ایک نہایت ضروری کام کے لئے حافظ آباد پہنچنا تھا۔اس نے کہا کہ حافظ آباد کی گاڑی تو وہ سامنے کھڑی ہے اور چند منٹ میں روانہ ہوگی۔یہ گاڑی لاہور جا رہی ہے جوں ہی میں نے یہ بات سنی میرے شکوہ و شکایت کے خیالات جذبات تشکر سے بدل گئے ہیں نے حافظ آباد جانے والی گاڑی میں سوار ہو کر خدا تعالیٰ کے حضور سجدۂ شکر ادا کیا کہ کس طرح اس نے میری دعا کو جو میرے لئے بہت ہی نقصان دہ تھی اور جس