قندیلیں

by Other Authors

Page 110 of 194

قندیلیں — Page 110

11۔میں سے تھے۔ان کا شمار ۲۱۳ میں ہے۔نہایت عبادت گزارہ ولی اللہ تھے جب لدھیانہ میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے بیعت لینے کا اعلان فرمایا تو حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے منشی عبد الرحمن سے لدھیا نہ چلنے کو کہا۔منشی صاحب نے فرمایا کہ میں استخارہ کر لوں۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب نے فرمایا تم استخارہ کرو۔ہم جاتے ہیں منشی روڑا صاحب محمد خان صاحب اور منشی ظفر احمد صاحب یکے بعد دیگرے لدھیانہ روانہ ہو گئے۔پہلے منشی روڑا صاحب نے بیعت کی۔بعد میں منشی ظفر احمد صاحب کے بیعت کرتے وقت حضرت صاحب نے دریافت فرمایا۔آپ کے رفیق کہاں ہیں۔رفیق کا لفظ بقول منشی ظفر احمد صاحب حضرت مسیح موعود اکٹر استعمال فرمایا کرتے تھے منشی ظفر احمد صاحب نے عرض کی کہ منشی روڑا صاحب نے تو بیعت کرلی ہے اور محمد خان صاحب نسل کر رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں میں نہا کر بیعت کروں گا۔چنانچہ بعد میں محمد خان صاحب نے بیعت کی اور منشی عبید الرحمن صاب کو استخارہ کرنے پر آوانہ آئی " عبید الرحمن آجا " چنانچہ دوسرے دن منشی عبد الرحمن صاحب نے آکر بیعت کر لی۔اپنا اپنا رنگ اخلاص کا ایک وہ تھے جو فوراً چل پڑے۔ایک نے نہایت ادب کے پیش نظر غسل کر کے بیت کرنا چاہیں۔ایک نے استخارہ کو مقدم سمجھا۔میر ایک کا اخلاص اپنے ذوق کے مطابق ظاہر ہے اور کسی کو کسی پر ترجیح دینا مشکل۔د روایات ظفر - اصحاب احمد جلد چہارم صفحه ۱۰)