قندیلیں — Page 186
1A4 نیک بیچے نے ایک نیا عہد باندھا صوفیہ اکرم چٹھہ اپنے والد محترم چوہدری رحمت خاں صاحب سابق امام مسجد لنڈن کے متعلق لکھتی ہیں کہ ابا جان اپنے بچپن کا ایک واقعہ سنایا کرتے تھے۔جو کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ آپ کے خاص تعلق اور لگاؤ کا ذریعہ بنا۔ابا جان ساتویں یا آٹھویں جماعت کے طالب علم تھے۔اتوار کا دن تھا۔سارا دن مختلف کاموں میں اپنے والدین کا ہاتھ بٹاتے رہے۔ظہر کی نمازہ کے بعد کتا بیں اٹھائیں اور با ہر والد صاب کے پاس چلے گئے تاکہ کام جو سکول سے ملا ہوا ہے وہ بھی کر لیں اور اگر کوئی مزید کام والد صاحب کے ساتھ کرنا پڑے تو وہ بھی کرلیں۔جب ابا جان اپنی پڑھائی میں مصروف تھے کہ ایک آدمی ہمارے دادا جان کو کہنے لگا۔چودھری صاحب خوش نصیب ہیں آپ جن کو یہ رحمت خاں بلا خدا اس کو نظر بد سے بچائے۔ابا جان فرمایا کرتے تھے کہ جب وہ اپنے کام سے فارغ ہو کر گھر آئے تو ان کی ٹانگ سوچنا شروع ہو گئی اور تکلیف بڑھتی گئی۔کچھ عرصہ کے بعد ٹانگ میں سے مادہ رہنا شروع ہو گیا۔آخر کا ر جب کوئی دوا کارگر ثابت نہ ہوئی تو ڈاکٹروں نے ابا جان کی ٹانگ کاٹ دینے کا فیصلہ کیا کیونکہ ٹانگ کی ہڈی گلنا شروع ہو گئی تھی۔وہ زمانہ ابا جان کے لئے سخت آزمائش اور ذہنی بے چینی کا تھا۔ادھر اپنی تعلیم کا خرچ اور اپنے قیمتی سال ضائع ہونے کا غم اور ساتھ ہی اپنی ٹانگ ضائع ہونے کا فکر جراحوں حکیموں اور ڈاکٹروں کا فیصلہ سننے کے بعد ابا جان نے اپنے مولا کے حضور تڑپ تڑپ کر دعائیں کرنی شروع کر دیں بعمر صرف چودہ سال - خدا تعالیٰ سے اس نیک بچے یا بندے نے ایک نیا عہد باندھا۔کہ اسے میرے مولی اگر میری ٹانگ ٹھیک ہو گئی کو بظاہر یہ نامکن معلوم ہوتا ہے مگر تیرے لئے کچھ نا ممکن نہیں تو میں آخری سانس تک کوئی نماز قضاء نہیں کروں گا اور تو ہی مجھے اس