قندیلیں — Page 174
۱۷۴ ایسے جو کالی کہ اس وقت سے لے کر آخری دم تک آپ نے گردن اٹھائی ہی نہیں آپ کی ہر وقت اٹھتے بیٹھتے ، چلتے پھرتے گردن جھکی ہی رہتی تھی۔الفضل ) نومبر 219 ) ۱۹۹۴ مہمان نوازی اور غریب پروری چوہدری نصر سکندر خان مہمان نوازی غریب پروری ان کا خاص شعار تھے۔گو جن حالات میں سے انہیں بچپن میں گزرنا پڑا تھا۔ان کے نتیجے میں خود انہیں تنگی سے گزرتا پڑتا تھا۔لیکن اس کا اثر وہ مہمانوں کی تواضع پر پڑنے نہیں دیتے تھے۔ن کا معمول تھا کہ عشاء کی عبادت کے بعد رات کے کپڑے پہن کر وہ مہمان خانے میں پہلے جاتے اور ایک خادم کے طور پر مسافروں اور مہمانوں کی خدمت کیا کرتے تھے اور تہجد کے بعد بھی مہمانوں کی خبر گیری کے لئے مہمان خانے میں جو بیت الذکر کے ساتھ ملحق تھا چلے جاتے تھے۔ایک دن فجر کے وقت مہمان خانہ کے خادم نے اطلاع دی کہ ایک مسافر جس نے مہمان خانہ میں رات بسر کی تھی، غائب ہے اور اس کا بستر کا لحاف بھی غائب ہے تھوڑی دیر کے بعد یہ لوگ اس مسافر کو لحاف سمیت پکڑے ہوئے آپ کے سامنے لے آئے۔آپ نے دریافت کیا۔میاں تم نے ایسا کیوں کیا ؟ مسافر نے جواب دیا کہ حضور ! ہم گھر میں بچوں سمیت کم نفوس ہیں۔سردی کا موسم ہے اور ہمارے گھر میں صرف ایک لحاف ہے۔آپ نے کہا اسے چھوڑ دو۔اور وہ لحاف بھی اسے دے دیا اور تین روپے نقد دیگر اسے رخصت کر دیا۔میری والده " از چوہدری ظفر اللہ خان صاحب)