قندیلیں — Page 166
درمیان سے فوارہ کی طرح دھاریں پھوٹ پڑیں۔معا میرے دل میں ان میں سے ایک دھار کو پینے کی خواہش پیدا ہو گئی چنانچہ میں اسے غٹاغٹ پینے لگا۔جو شہد سے زیادہ شیریں اور دودھ سے زیادہ لذیذ تھی۔پیتے پیتے ہیں اس سے سیر ہوا جاتا تھا۔یہاں تک کہ جسم کا ذرہ ذرہ سیراب ہو گیا اور مجھ میں ایک حالت سرور اور طمانیت کی پیدا ہو گئی۔سامنے رحضرت بانی سلسلہ جماعت احمدیہ ) کی شبیہ مبارک نظر آتی تھی۔اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔صبیح اٹھتے ہی میں نے حضرت امام جماعت الثانی کی خدمت میں لکھ کر بیعت کی در خواب روزنامه الفضل بهار جون شاه ) کی۔1990 اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کیلئے کیا کیا انتظام فرماتا ہے حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر بچپن میں ایک دفعہ بیمار ہو گئے اور اس قسم کی وبائی بیماری شہر کے ایک بہت بڑے رئیس کے بیٹے کو بھی ہو گئی جس کے لئے انہوں نے دہلی سے ایک بہت بڑے حکیم صاحب کو ۵۰۰ روپے روزانہ پر بلوایا۔آپ کے والد صاحب (حضرت منشی ظفر احمد صاحب) نے ان حکیم صاحب کو ایک تحریری رقعہ بھجوایا جس میں لکھا کہ " میں آپ کا تہم وطن ہوں اور میرے بیٹے کو یہ مرض ہے۔آپ آکر دیکھ جائیں " حضرت منشی صاحب نے رقعہ پر صرف اپنا نام لکھا اور پتہ لکھنا بھول گئے۔وہ حکیم صاحب ان رئیس صاحب کی گھوڑی والی بگھی کیر شہر کے مختلف محلوں سے پوچھتے پوچھتے آپ تک پہنچے اور دوا تجویز کی جس کے استعمال سے آپ شفا پاگئے۔لیکن ان رئیس کے بیٹے کی بیماری جان لیوا ثابت ہوئی۔حضرت فرمایا کرتے تھے کہ دہلی کے ان حکیم صاحب کی کپور تھلہ آمد کا انتظام اللہ تعالیٰ