قندیلیں

by Other Authors

Page 105 of 194

قندیلیں — Page 105

د۔ا خدا کا ایک ادنیٰ خادم ہے جو اس کے دست تصرف کے ماتحت مدو جزر دکھاتا ہے۔پس اگر وہ چاہے تو یہ جوش تموج اسی وقت ختم ہو سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے عجیب تصرفات ہیں کہ میں نے منہ سے یہ کلمات نکالے ہی تھے کہ سمندر کی موج ہٹ گئی۔اس کا جوش تھم گیا۔اور کشتی آرام سے چلنے لگی۔تب وہ ملاح ہاتھ جوڑ کر کہنے لگے کہ ہماری تو بہ !ہماری توبہ! واقعی اللہ تعالیٰ ہی طوفان سے بچا سکتا ہے۔خدا تعالیٰ کی عجائبات میں سے ہے کہ طوفانی لہروں کی شدت کے وقت مجھے اس قدر روحانی طاقت محسوس ہوئی تھی کہ مجھے یقین تھا کہ اگر ملاح اپنے مشرکانہ کلمات سے باز نہ آئے اور اس وجہ سے کشتی ڈوب گئی تو یکیں اور عزیز عرفانی صاحب سطح آب پر چل کر بفضل تعالے سلامتی سے کنارے پہنچ جائیں گے کیونکہ ہم مرکز کی ہدایت کے ماتحت دعوت إلی اللہ کے لئے جارہے تھے۔(حیات قدسی حصہ چہارم ص ۸۳) میری والدہ سب کی والدہ حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب فرماتے ہیں کہ ہمارے گاؤں کے ایک ساہوکار نے ایک غریب کسان کے مویشی ایک ڈگری کے سلسلہ میں فرق کر لئے۔یہ کسان بھی احراریوں میں شامل تھا۔فرق شدہ مویشیوں میں ایک بچھڑی بھی تھی۔تشرق کے وقت کسان کے کم سن بچے نے بچھڑی کی رسی پکڑ لی کہ یہ پچھڑی میرے باپ نے مجھے دی ہے۔میں یہ نہیں لے جانے دوں گا۔ڈگری دار نے یہ بچھڑی بھی فرق کروالی۔اس سے چند روز قبل اس کسان کی ایک بھینس کنویں