قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 126
قدرت ثانیہ کا دور اوّل اور رقت انگیز دعا فرمائی۔بنیا درکھنے سے قبل آپ نے مندرجہ ذیل مختصر مگر مؤثر تقریر فرمائی: اگر اکیلا آدمی چالیس دن تک یا چالیس آدمی ایک وقت میں مل کر کسی امر کے لئے دعا کریں تو بارگاہ الہی میں قبول ہو جاتی ہے اس وقت ہم چالیس سے بہت زیادہ ہیں خدا کی جناب میں سب مل کر دعا کرو کہ اس مدرسہ میں جس کی بنیادی اینٹ رکھنے کے لئے ہم آئے ہیں بڑے بڑے نیک اور خادم دین لڑکے تعلیم حاصل کر کے باہر نکلیں اور گندے اور شریر اور بدکارلڑ کے یہاں نہ آئیں اور اگر آئیں تو خدا انہیں ہدایت دے ( ریویو آف ریلیجنز اردو اگست 1912) ہائی اسکول کی یہ 400 فٹ لمبی 104 فٹ چوڑی 36 فٹ اونچی ( دومنزلہ) اور 64 فٹ اونچے آمین۔برجوں والی عمارت پنجاب بھر کے سکولوں میں نمایاں اور ممتاز بلڈنگ ہے چنانچہ 11,12 دسمبر کو ڈپٹی کمشنر صاحب بہادر ضلع گورداسپور نے بورڈنگ اور سکول کی عمارتیں دیکھ کر کہا کہ :۔مجھے ان تمام چیزوں نے نہایت مسرور کیا ہے اور جماعت احمدیہ نے جس جوش اور کمال کے ساتھ یہ کام شروع کیا ہے میں اس کا مداح ہوں اور عمارت کے متعلق لکھا کہ دد مکمل ہونے پر پنجاب میں ایک ہی عمارت ہوگی۔“ (الفضل 17 دسمبر 1913ء) اگر ہم موجودہ حالت سے قطع نظر کرتے ہوئے اس زمانہ کا تصور کریں تو یقینا احمد یوں کی بظاہر چھوٹی سی اور غریب جماعت کا ایسا عظیم الشان سکول تیار کرنا ایک غیر معمولی کارنامہ ہے جس کی عام حالات میں عام لوگوں سے توقع نہیں کی جاسکتی لیکن حضرت مسیح موعود کی تیار کردہ جماعت کے افراد جن کی باگ ڈور ان دنوں ایک ایسے عظیم الشان متوکل شخص کے سپر دتھی جس کا نام آسمان پر عبدالباسط رکھا گیا تھا۔وسعت حوصلہ کا بے نظیر نمونہ دکھاتے ہوئے اپنی ایک ماہ کی تنخواہ اس کام میں دے کر روایتی جنوں کا سا کام کر دکھایا۔اس عمارت پر جیسا کہ اندازہ تھا ایک لاکھ رپید کے قریب خرچ ہوا۔خلافت اولیٰ ہی میں ایک جائداد گرلز ہائی سکول کے لئے خریدی گئی۔اور اس طرح طبقہ اناث و ذکور دونوں کی تعلیم کا بنیادی کام با قاعدہ شروع ہو گیا۔(126)