قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 81
مقتدرت ثانیہ کا دور اول تیر ا عظیم الشان معاون تیسرے شخص جن کے دل میں اللہ تعالیٰ نے تحریک کی وہ مکرم خان محمد علی خان صاحب ہیں۔آپ نے کچھ روپیہ نقد اور کچھ زمین اس کام کے لئے دے دی پس وہ بھی اس رو کے پیدا کرنے والے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے الفضل کے ذریعہ چلائی۔اور السابقون الاولون میں سے ہونے کے سبب سے اس امر کے اہل ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سے اس قسم کے کام لے۔“ (الفضل 4 جولائی 1924ء) ان حالات میں سے گزرتے ہوئے اور قدم قدم پر مشکلات سے دوچار ہوتے ہوئے آپ نے الفضل اخبار کے لئے میدان ہموار کیا اور حضرت خلیفہ مسیح اول ( اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو ) سے اخبار کے اجراء کی اجازت اور نام رکھنے کی درخواست کی حضرت خلیفہ اول نے باوجود اس علم کے کہ پیغام بھی لاہور سے شائع ہو رہا ہے حضرت صاحبزادہ صاحب کو اخبار جاری کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی اور الفضل نام تجویز فرمایا: چنانچہ اس مبارک انسان کا رکھا ہوا نام الفضل فضل ہی ثابت ہوا۔“ ( الفضل 4 جولائی 1924ء) 8 جون 1913ء کو الفضل کا پہلا پرچہ شائع ہوا جس کے افتتاحیہ مقالہ میں حضرت صاحبزادہ صاحب نے تحریر فرمایا کہ:۔”خدا کے نام اور اس کے فضلوں اور احسانوں پر بھروسہ کرتے ہوئے اس سے نصرت و توفیق پاتے ہوئے میں الفضل، جاری کرتا ہوں۔۔۔اپنے ایک مقتدا اور رہنما اپنے مولا کے پیارے بندے کی طرح اس بحر نا پیدا کنار میں 'الفضل' کی کشتی کو چلانے کے وقت اللہ تعالیٰ کے حضور بصد عجز و انکسار یہ عہد کرتا ہوں کہ بسم الله مجرها و مُرسَهَا إِنَّ رَبِّي لغفور رحيم ہاں اے میرے محبوب خدا تو دلوں کا واقف ہے اور میری نیتوں اور ارادوں کو خوب جانتا ہے۔میرے پوشیدہ رازوں سے (81)