قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 73 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 73

قدرت ثانیہ کا دور اوّل رہے ہیں۔اس اخبار کے ذریعہ انہوں نے اس دائرہ کو زیادہ وسیع کرنے کا تہیہ کیا ہے۔اور اس کے ساتھ ہی دیا نندی فتنہ کے انسداد اور ذب کی طرف توجہ کی ہے اور فی الواقع اس کی ضرورت ہے۔کہ آریوں کی طرف سے اسلام پر جو اعتراضات کئے جاتے ہیں ان کے دندان شکن جواب دیے جائیں۔ماسٹر محمد یوسف صاحب کے قلم میں اور ان کے دل و دماغ میں جوش ہے۔اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر قوم نے ان کی حوصلہ افزائی کی تو خدا کے فضل سے اس سلسلہ میں وہ قابل قدر کام کر سکیں گے۔میں یہ چاہتا ہوں کہ ” نور“ کامیاب ہو نہ اس لئے کہ عزیز محمد یوسف میرے قابل قدر دوستوں میں سے ہیں یا بھائیوں میں سے ہیں بلکہ اس لئے کہ نور کے ذریعہ ایک ایسی ضرورت پورا کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے جس کی طرف ابھی تک بہت کم توجہ کی گئی ہے بلکہ نہیں کی گئی۔آریہ مشن کی تردید میں میرے نہایت مکرم اور قابل قدر بھائی میر قاسم علی صاحب پہلے سے فاروق نامی ایک ہفتہ وار اخبار کا اعلان کر چکے ہیں۔فاروق خود ایک قابل قدر چیز ہو گا۔بہر حال میں ایسے تمام جرائد کی کامیابی کا اللہ تعالیٰ سے متمنی ہوں جو خدمت اسلام کے کئے جاری ہوں۔بلکہ سچ تو یہ ہے : خدا خود میشود ناصر اگر ہمت شود پیدا“ (الحکم 8 اکتوبر 1909ء) اس رسالہ کے ذریعہ حضرت مسیح موعود کی تحقیق کو سکھوں تک پہنچایا گیا اور سکھوں کے لئے یہ رسالہ بہت مفید ثابت ہوا۔مکرم شیخ محمد یوسف صاحب کو کئی گرانقدر گورمکھی کتابوں کی تصنیف اور قرآن مجید کا گورمکھی ترجمہ کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔(73)