قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 37
قدرت ثانیہ کا دور اول حضرت اماں جان۔ناقل ) کل قوم نے جو قادیان میں موجود تھی اور جس کی تعداد اس وقت بارہ سوتھی والا مناقب حضرت حاجی الحرمین الشریفین جناب حکیم نورالدین صاحب سلمہ کو آپ کا جانشین اور خلیفہ قبول کیا اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کرلی بالاتفاق خلیفہ امسیح قبول کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد آپ کا جانشین وہ شخص ہے جس کے جھنڈے کے نیچے اللہ تعالیٰ نے تمام جماعت کو فوراً جمع کر دیا اور پیشتر اس کے کہ حضرت اقدس کو دفن کیا جاتا تمام جماعت نے بالاتفاق حضرت مولوی نور الدین صاحب کو حضرت مسیح موعود کا خلیفہ مان لیا اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔“ ( بدر 2 جون 1908ء) مندرجہ بالا اقتباس میں جہاں بیعت خلات اولیٰ کو بجا طور پر وصایا مندرجہ الوصیت کے مطابق قرار دیا گیا ہے۔اور یہ فیصلہ بھی کر دیا گیا ہے کہ الوصیت کا منشاء خلافت مسنونہ ہے۔نہ کہ کسی انجمن یا سوسائٹی کا حضرت اقدس کا جانشین ہونا وہاں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ خلیفہ کی بیعت نئے اور پرانے سب احمدیوں کے لئے ضروری اور لا بدی امر ہے۔مقام بیعت خلافت اولیٰ کا تعین کئی وجوہ سے مشکل ہے مثلاً یہ بیعت بہشتی مقبرہ سے متصل باغ میں ہوئی جو ایک پرانی طرز کا باغ ہے۔اس میں کثیر التعداد درخت بغیر کسی ترتیب اور تناسب کے اُگے ہوئے ہیں۔اور ایسے غیر مترتب درختوں میں سے کسی ایک کو مقام بیعت کے طور پر معین کرنا یقینا مشکل امر ہے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے اس امر کی تحقیق کے لئے اخبار الفضل میں اعلان کروایا کہ جن رفقاء کو بیعت خلافت اولیٰ کا صحیح مقام معلوم ہے وہ تحریر کریں۔ان روایات میں بھی مندرجہ بالا دونوں خیالات کا اظہار کیا گیا ہے۔تیرہ بزرگ اسی خیال کے حامی ہیں کہ بیعت شہ نشین کے پاس حضرت مسیح موعود کے باغ میں ہوئی۔1 - مکرم محترم مفتی محمد صادق صاحب (37)