قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 88
قدرت ثانیہ کا دور اوّل مقرر ہوئے۔آپ نے سارا عرصہ دعوت الی اللہ جاری رکھی اور آپ کی کوششوں سے کئی افراد چشمہ ہدایت سے سیراب ہوئے چنانچہ الحاکم 11 مارچ 1914ء میں آپ کی تبلیغی مساعی کی ایک خبر شائع ہوئی کہ : آج شام سید ولی اللہ شاہ صاحب کا خط آیا ہے کہ ایک عرب کنبہ ان کی تبلیغ سے احمدی ہو گیا ہے فالحمد لل ثم الحمدللہ ثم الحمد للہ۔سید عبدالغنی صاحب عرب جو اپنے دو بچوں اور بیوی سمیت احمدی ہوئے ہیں ان کا بیعت کا خط بھی موصول ہو گیا ہے۔“ (الحکم 11 مارچ1914 ء ) خلافت اُولیٰ میں بلاد اسلامیہ میں دعوت الی اللہ کا ایک اور موقع پیدا ہوا یعنی مکرم فرزند علی خان صاحب ( اپنے والد صاحب کی معیت میں ) فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے 30 اگست 1913 ء کو قادیان سے تشریف لے گئے اور سارے سفر میں احمدیت کا پیغام دیتے رہے اور فریضہ حج کی ادائیگی کے بعد اشاعت دین کرتے ہوئے دسمبر 1913ء میں واپس قادیان پہنچ گئے۔اس جگہ یہ ذکر بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ مندرجہ بالا چاروں اصحاب یعنی (1) حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال (2) حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب (3) شیخ عبدالرحمن صاحب (4) حضرت خان فرزند علی خان صاحب انجمن انصار اللہ ( جس کا مفصل ذکر آئندہ آئے گا) کے ممبر تھے اور یہ انجمن کی تنظیم کا ہی اثر تھا کہ یہ اصحاب دعوت الی اللہ کہ یہ اصحاب دعوت الی اللہ کے شرف سے مشرف ہوئے صدر مجلس انصار اللہ صاحبزادہ محمود احمد ( حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ) ان مجاہدوں کو قادیان سے روانگی کے وقت ہدایات و نصائح کے علاوہ اپنی دعاؤں سے روانہ فرماتے اور دور تک بطور مشایعت تشریف لے جاتے۔بیرونی ممالک میں ان تبلیغی کوششوں کے علاوہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز اس تمام عرصہ میں نہایت عمدہ خدمات سرانجام دیتارہا اور اسلامی اصول کی فلاسفی کے انگریزی ترجمہ نے بہت مفید اثر کیا اور دنیا بھر کے اہل الرائے اصحاب نے اس کتاب کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا اور قریباً ہر (88)