قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 80
قدرت ثانیہ کا دور اوّل صلی اللہ علیہ وسلم کی مد کی تحریک کی تھی۔انہوں نے اس امر کو جانتے ہوئے کہ اخبار میں روپیہ لگانا ایسا ہی ہے جیسے کنوئیں میں پھینک دینا۔اور خصوصاً اس اخبار میں جس کا جاری کرنے والا محمود ہو جو اس زمانے میں شائد سب سے بڑا مذموم تھا اپنے دوز یور مجھے دے دئے۔کہ میں ان کو فروخت کر کے اخبار جاری کر دوں ان میں سے ایک تو ان کے اپنے کڑے تھے اور دوسرے ان کے بچپن کے کڑے تھے جو انہوں نے میری اور اپنی لڑکی عزیزہ ناصرہ بیگم سلمہا اللہ تعالیٰ کے استعمال کے لئے رکھے ہوئے تھے۔میں زیورات کو لے کر اسی وقت لا ہور گیا اور پونے پانسو کو وہ دونوں کڑے فروخت ہوئے یہ ابتدائی سرمایہ الفضل کا تھا الفضل اپنے ساتھ میری بے بسی کی حالت اور میری بیوی کی قربانی کو تازہ رکھے گا۔اور میرے لئے تو اس کا ہر پر چہ گونا گوں کیفیات کا پیدا کرنے والا ہے۔بار ہاوہ مجھے جماعت کی وہ حالت یاد دلواتا ہے جس کے لئے اخبار کی ضرورت تھی۔بار ہا مجھے وہ اپنی بیوی کی وہ قربانی یاد کرواتا ہے جس کا مستحق نہ میں اپنے پہلے سلوک کے سبب تھا اور نہ بعد کے سلوک نے مجھے اس کا مستحق ثابت کیا ہے۔۔۔دوسرا اعظیم الشان معاون 66 (الفضل 4 جولائی 1924ء) دوسری تحریک اللہ تعالیٰ نے حضرت اماں جان ( اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو ) کے دل میں پیدا کی اور آپ نے اپنی ایک زمین جو قریباً ایک ہزار روپیہ میں بکی الفضل کے لئے دے دی۔مائیں دنیا کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہیں مگر ہماری والدہ کو ایک خصوصیت ہے اور وہ یہ کہ احسان ( کرنا ) صرف ان کے حصہ میں آیا ہے۔اور احسان مندی صرف ہمارے حصہ میں آئی ہے۔(80)