قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 74
الحق قدرت ثانیہ کا دور اول علم مناظرہ وعلم کلام کے مشہور ماہر حضرت میر قاسم علی صاحب ( جو اسلام کے مخالفوں کے لئے نگی تلوار کی طرح تھے ) نے ہندوستان کے پایہ تخت دہلی سے ایک سہ ماہی رسالہ بنام ”الحق“ جاری کیا اس کا پہلا پرچہ 7 جنوری 1910ء کو شائع ہوا یہ پرچہ مندرجہ ذیل مقاصد کے لئے حضرت میر قاسم علی صاحب نے جاری کیا۔اول - مخالفین اسلام کے عموماً دیا نندیوں کے خصوصاً اعتراضات کا جواب دینا اسلام کی خوبیوں کا اظہار کرنا ، دیانندی طلسم کو توڑنا۔دوم۔مسلمانوں میں باہمی اتفاق و اتحاد بڑھانا اور اختلافات باہمی سے اجتناب کرنا۔سوم = گورنمنٹ برطانیہ کے احسانات کے اظہار اور اس کے برخلاف ہر طرح کی غلط فہمیوں کو رڈ کر کے رعایا میں فرمانبرداری اور جماعت کے لئے مخلصانہ جوش پیدا کرنا۔فرمایا: حضرت میر قاسم علی صاحب نے اس رسالہ کا اجراء مندرجہ ذیل رقت انگیز درد بھری دعا سے ”اے رحمان و رحیم خدا اے میری روح اور ذات جسم کے مالک و خالق رب الوری میں تیرے حضور میں کھڑے ہونے کے ہول و ہر اس کو نصیب العین رکھ کر دعا کرتا ہوں کہ تو اس راہ میں جس میں عموماً مجھ جیسے ضعیف البنیان انسان کو صد با مصائب اور ابتلاؤں کا سامنا ہوتا ہے۔میری مدد اور نصرت فرما۔نہ اس لئے کہ میرا کوئی حق ہے بلکہ میں 'الحق' کی خدمت پر کمر باندھتا ہوں اے میری توانائی ! تو مجھے بلند ہمت اور عالی حوصلگی عطا فرما۔اے قادر و برتر ہستی ! مجھے ناجائز جذبات۔بے جا طرفداری کے مغلوب ہونے سے محفوظ رکھ۔اور مجھے شتاب کاری اور کورانہ تعصب کی کاروائی سے قطعأ روک دے اور میں ”الحق کا خادم ہو کر راستی کی حمایت میں پورے سکون (74)