قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 42 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 42

حیرت دہلوی صاحب لکھتے ہیں : قدرت ثانیہ کا دور اول ” مرحوم کی وہ اعلیٰ خدمات جو اس نے آریوں اور عیسائیوں کے مقابلہ میں اسلام کی کی ہیں وہ واقعی بہت ہی تعریف کی مستحق ہیں۔اس نے مناظرے کا بالکل ہی رنگ بدل دیا۔اور ایک جدید لٹریچر کی بنیاد ہندوستان میں قائم کی نہ بحیثیت ایک مسلمان ہونے کے بلکہ ایک محقق ہونے کے ہم اس بات کا اعتراف کرتے ہیں۔کہ کسی بڑے سے بڑے آریہ اور بڑے سے بڑے پادری کی یہ مجال نہ تھی کہ وہ مرحوم کے مقابلہ میں زبان کھول سکتا۔جو بے نظیر کتاب میں آریوں اور عیسائیوں کے مذاہب کے رڈ میں لکھی ہیں اور جیسے دندان شکن جواب مخالفین اسلام کو دیے ہیں آج تک معقولیت سے اس کا جواب الجواب ہم نے تو نہیں دیکھا۔اگر چہ مرحوم پنجابی تھا مگر اس کے قلم میں اس قدر قوت تھی کہ آج سارے پنجاب بلکہ بلندی ہند میں بھی اس قوت کا کوئی لکھنے والا نہیں۔ایک پر جذبہ اور قومی الفاظ کا انبار اس کے دماغ میں بھرارہتا تھا اور جب وہ لکھنے بیٹھتا تو جچے تلے الفاظ کی ایسی آمد ہوتی کہ بیان سے باہر ہے۔“ اسی طرح مشہور اخبار وکیل امرتسر نے لکھا: وو ( کرزن گزٹ یکم جون 1908ء) مرزا صاحب کا لٹریچر جو مسیحیوں اور آریوں کے مقابلہ پر ان سے ظہور میں آیا، قبول عام کی سند حاصل کر چکا ہے۔اور اس خصوصیت سے وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں اس لٹریچر کی قدر و عظمت آج جب کہ وہ اپنا کام پورا کر چکا ہے ہمیں دل سے تسلیم کرنی پڑتی ہے۔غرض مرزا صاحب کی یہ خدمت آنے والی نسلوں کو گرانبار احسان رکھے گی کہ انہوں نے قلمی جہاد کرنے والوں کی صف میں شامل ہو کر اسلام کی طرف سے فرض مدافعت ادا کیا۔اور ایسا لٹریچر یاد گار چھوڑا، جو اس وقت تک کہ مسلمانوں کی رگوں میں زندہ خون رہے اور حمایت اسلام کا جذبہ ان کے شعار قومی کا (42)