قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 41
قدرت ثانیہ کا دور اوّل اس کا دور زوال شروع ہو گیا۔اسلام کا درخت اپنی جڑوں پر تو قائم تھا مگر اس کی سرسبزی اور شادابی ماند پڑ رہی تھی سرسبز خوشگوار پتے جھڑنے لگے اور وہ عظیم الشان لہر جو سرزمین عرب سے اٹھ کر آنا فاناً نصف دنیا پر چھا گئی تھی جزر کی صورت میں پیچھے ہٹی اور خدا تعالیٰ کے منشاء کے مطابق یہ حالت اس وقت تک قائم رہی جب تک حسب منطوق قرآن وَإِذَ الصُّحُفُ نشرت (التکویر :11 ) اشاعت کے ذریعے اتنے وسیع ہو گئے کہ اس سے قبل کوئی اس کا تصور بھی نہ کر سکتا تھا عین ضلالت و گمراہی کے غلبہ کے وقت جب کہ ایک طرف عیسائیت اپنے جلو میں ہر طرح کی ظاہری و مادی دلفریبیاں اور رعنائیاں لئے بڑھتی چلی آرہی تھی تو دوسری طرف ہندومت خصوصاً آریہ سماج سوچی سمجھی ہوئی سکیموں کے مطابق اسلام کے قلعہ پر گولہ باری کر رہے تھے۔اللہ تعالیٰ نے دین حق کو دوبارہ پوری آن بان اور شان و شوکت عطا کرنے کے لئے اپنی تقدیر اور منشاء کے مطابق مسجد دصدی چہار دہم حضرت مرزا غلام احمد مسیح و مہدی علیہ السلام کو مبعوث فرمایا جنہوں نے دنیا کے سامنے قلمی جہاد کا ایک نیاریکارڈ قائم کیا۔اور دین حق کی مدافعت میں چومکھی لڑائی لڑی چنانچہ آپ کے آغاز جہاد کے وقت آپ کی قلمی خدمات کو سراہتے ہوئے ایک مسلمہ اہل حدیث لیڈر محمد حسین صاحب بٹالوی نے لکھا: کہ اس کا ( براہین احمدیہ ) مؤلف بھی اسلام کی مالی جانی و قلمی ولسانی و حالی و قالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت کم پائی گئی ہے۔ہمارے الفاظ کو کوئی ایشیائی مبالغہ سمجھے تو ہم کو کم سے کم ایسی کتاب بتادے جس میں جملہ فرقہ ہائے مخالفین اسلام خصوصاً آریہ سماج سے اس زور شور سے مقابلہ پایا جاتا ہو۔“ اشاعۃ السنہ جلد 7 صفحہ 6 ص 169 ) جب آپ زندگی بھر دین حق کی نشاۃ ثانیہ کے مقدس فریضہ اور قلمی جہاد سرانجام دیتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہو گئے تو ملک بھر کے چیدہ چیدہ اصحاب الرائے اور اہل قلم حضرات نے آپ کی تحریری خدمات کو سراہا اور نہایت پُرزور الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔چنانچہ مشہور اہل قلم مرزا (41)