قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 40
قدرت ثانیہ کا دور اوّل اس ساری بحث کو سمیٹتے ہوئے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر فرماتے ہیں: یہ بات بھی قابل غور ہے کہ محترم بھائی عبد الرحمان صاحب قادیانی اور محترم شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے اپنی رائے بڑی قطعیت اور پختگی کے ساتھ ظاہر فرمائی ہے اور یہ دونوں بزرگ بڑے بزرگوں میں سے ہیں جنہیں خاص مقام حاصل (الفضل 23 فروری 1955ء) ہے۔۔حضرت خلیفہ اول کی تصنیفات کا تعارف دین حق عالمگیر ازلی ابدی صداقت ہے۔اسی وجہ سے ازل سے اس کے لئے ترقی کے دو مختلف دور مقدر تھے۔ایک اس وقت جب یہ قلوب کی زمین میں راسخ ہو جائے اور اس طرح جڑ پکڑ لے کہ ابتلاؤں اور مصائب کی آندھیاں زرومال کی حرص اور جاہ پسندی کوئی چیز بھی مسلمانوں کو اسلام سے منحرف نہ کر سکے چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سرزمین عرب میں توحید کی صدا بلند کی اور دنیا کو اس خالق حقیقی کی طرف متوجہ کیا جو بے مثل و بے ہمتا ہے۔تو اسلام نے آہستہ آہستہ ٹھیک اس طرح جس طرح بیج زمین سے نمی اور دوسری خوراک حاصل کر کے کونپل نکالتا ہے۔بتدریج پھیلنا شروع کیا اس دور کی تاریخ یقیناً باعث حیرت ہے کہ اسلام جیسی لازوال اور مؤثر صداقت کی قبولیت کی رفتار اتنی ست کیوں رہی۔لیکن یہ امر الہی منشاء کے مطابق تھا کہ اس صداقت کو دلوں میں پوری طرح جاگزیں کر دیا جائے۔چنانچہ اسی طرح اسلام نے اپنی زندگی کے ابتدائی دن گزارے اور جب اس پودے نے کچھ شاخیں پیدا کر لیں اور قدرے بڑا ہو گیا تو پھر شاخوں پر پتے نکلنا شروع ہوئے۔اور ترقی کی رفتار قدرے تیز ہو گئی لیکن عین اس وقت جبکہ اسلام سرزمین عرب سے نکل کر سرزمین ہند اور یورپ میں داخل ہو رہا تھا اور اس کی شوکت کا یہ عالم تھا کہ دنیا کی کسی قوم کو اس کا مقابلہ کرنے کی ہمت و جرات نہ تھی اور اسے دنیا کی عظیم ترین سیاسی اور مذہبی طاقت سمجھا جاتا تھا۔(40)