قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 26 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 26

قدرت ثانیہ کا دور اوّل حضرت مولانا مولوی نور الدین صاحب اپنی ان بیش بہا دینی خدمات پر کبھی مطمئن نہیں ہوتے تھے بلکہ بنی نوع انسان کی خدمت کے لئے ہر قسم کے موقع کی تلاش میں رہتے تھے اور اس کے لئے مختلف تجویزیں سوچتے رہتے تھے۔مثلاً ایک دفعہ آپ نے ایسی ہی ایک تجویز کا اعلان فرمایا کہ: میں عرصہ دراز سے بحضور حضرت امام حجۃ الاسلام سلمہ اللہ تعالیٰ سعادت اندوز رہا اور اب بھی ہوں۔ہمیشہ حضرت ممدوح کی محبتوں اور شفقتوں کو دیکھتا تو مجھ کو جوش اُٹھتے تھے۔کہ الہی کوئی دینی خدمت مجھ سے بھی ہوتی اور خواہش تھی کہ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے تو فیق عطا ہو۔بحمد اللہ یہ مراد اس طرح پوری ہوئی کہ عیدالاضحی کے بعد چند احباب کے حضور فقیر نے یہ امر پیش کیا کہ یہاں مقام قادیان حضور امام حجۃ الاسلام کے آستانہ مبارک میں رفاہ عام اور تعلیم کے متعلق دس ضرورتوں کا ذکر فرمایا ہے ) ان ضرورتوں کے متعلق میں نے اپنے احباب کو کچھ سنا یا تو حکیم فضل دین۔نور الدین خلیفہ، میر ناصر نواب منشی رستم علی ، راجہ عبد اللہ خاں، برادر عبدالرحیم ، حافظ احمد اللہ خان، وزیر خاں نے پسند فرمایا۔اس لئے گزارش ہے کہ جو احباب اس خیال کو پسند فرما ئیں وہ اپنی پسندیدگی کا اظہار فرما ئیں اور بحکم تعاونوا علی البر والتقویٰ ہمارا ساتھ دیں۔حضرت امام حجة الاسلام نے بھی اجازت دیدی ہے۔اور آمد وخرچ کے رجسٹر مجلس شوریٰ ہائے میں دکھائے جائیں گے۔اور قرآن شریف، کتاب، نقد ، کرن ، پائجامہ ٹو پی وغیرہ جو کچھ کسی کو میسر ہوفر یسندہ کو بھیجنے کا اختیار ہے۔“ ( الحکم 24 مارچ 1900 ) اس تجویز سے آپ کی غریب پروری اور خدمت خلق کے جذبہ پر روشنی پڑتی ہے۔کہ باوجود زندگی کے ہر ہرلمحہ کو خدمت خلق کے لئے وقف کر دینے کے بھی آپ مزید خدمت کے موقع کی تلاش میں رہتے تھے۔1896ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حکم پر آپ حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کو قرآن مجید پڑھانے کے لئے مالیر کوٹلہ تشریف لے گئے۔تکمیل ارشاد اور دوسری طرف قادیان کی محبت۔آپ تحریر فرماتے ہیں کہ : (26)