قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 21 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 21

قدرت ثانیہ کا دور اوّل میں یہاں کیوں آیا۔ایسے اضطراب اور تشویش کی حالت میں اس مرزا نے خود ہی مجھ سے پوچھا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں؟ میں نے نہایت روکھے الفاظ اور کبیدہ کبیدہ دل سے کہا کہ پہاڑ کی طرف سے آیا ہوں تب اس نے جواب میں کہا کہ ”آپ کا نام نورالدین ہے۔اور آپ جموں سے آئے ہیں اور غالباً آپ مرزا صاحب کو ملنے آئے ہوں گے۔بس یہ لفظ تھا جس نے میرے دل کو کسی قدر ٹھنڈا کیا اور مجھے یقین ہوا کہ یہ شخص جو مجھے بتایا گیا ہے مرزا صاحب نہیں ہیں۔میرے دل نے یہ بھی گوارا نہ کیا کہ میں اس سے پوچھتا کہ آپ کون ہیں؟ میں نے کہا ”ہاں اگر آپ مجھے مرزا صاحب کے مکانات کا پتہ دیں تو بہت ہی اچھا ہو گا۔اس پر اس نے ایک آدمی مرزا صاحب کی خدمت میں بھیجا اور مجھے بتایا کہ ان کا مکان اس مکان سے باہر ہے۔اتنے میں حضرت اقدس نے اس آدمی کے ہاتھ لکھ بھیجا کہ نماز عصر کے وقت آپ ملاقات کریں۔یہ بات معلوم کر کے میں اُٹھ کھڑا ہوا۔۔۔عصر کے بعد حضرت اقدس تشریف لائے اور فرمایا کہ میں ہوا خوری کے واسطے جاتا ہوں کیا آپ بھی میرے ساتھ چلیں گے؟ میں نے عرض کیا کہ ہاں۔“ روایت ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر حضرت مولانا صاحب کی پہلی نظر پڑی تو آپ نے دیکھتے ہی بے ساختہ کہا۔”بس یہی مرزا ہے اور اس پر میں سارا ہی قربان ہو جاؤں۔“ اور حضرت مسیح موعود کو یہ گوہر آبدار ملا تو آپ کے جذبات حمد وشکر میں ڈھل گئے۔فرماتے ہیں: مجھ کو اس کے ملنے سے ایسی خوشی ہوئی کہ گویا کوئی جدا شدہ عضول گیا ہو اور ایسا سرور ہوا جس طرح کہ حضرت نبی کریم صلال و سیستم حضرت فاروق کے ملنے سے خوش ہوئے تھے۔۔۔اور جب وہ میرے پاس آیا اور مجھ سے ملا اور میری نظر اس پر پڑی تو میں نے اس کو دیکھا کہ وہ میرے رب کی آیت ہے اور مجھے یقین ہو گیا کہ میرے اُسی دعا کا نتیجہ ہے جس پر میں مداومت کرتا تھا اور میری فراست نے مجھے بتا دیا کہ وہ اللہ تعالی کے منتخب بندوں میں سے ہے۔(ترجمہ از آئینہ کمالات اسلام جلد 5 ص 583,582) (21)