قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 141 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 141

لفافہ میں ہے اس کی بیعت کرو۔قدرت ثانیہ کا دور اول 1913ء کے جلسہ سالانہ کے بعد حضور علی العموم اسہال، کمر درد اور بخار وغیرہ سے بیمار رہے اور جنوری 1914 میں تو آپ کمزوری اور بخار کی وجہ سے صاحب فراش ہو گئے۔اس حالت میں بھی آپ نے اپنی روح کی غذا یعنی قرآن مجید کی خدمت کا کام نہ چھوڑا اور علی العموم ظہر کے بعد مولوی محمد علی صاحب سے قرآن مجید کا ترجمہ اور نوٹ سنتے اور اس کی اصلاح فرماتے رہے۔اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ فروری کے دوسرے ہفتے میں جبکہ کمزوری کی وجہ سے آپ سہارے کے ساتھ بھی نہ بیٹھ سکتے تھے فرمایا۔میں بول تو سکتا ہوں۔خدا کے سامنے کیا جواب دوں گا۔درس کا انتظام کرو میں قرآن مجید سنادوں۔یہ فقرہ آپ کی قوت ارادی اور ایمان کی پختگی پر دال ہے ورنہ آپ اس وقت درس دینے کے قابل نہ تھے۔13 مارچ 1914ء کو بروز جمعہ دو پہر سوا دو بجے کے قریب عین حالت نماز میں اپنے رفیق اعلیٰ سے جاملے۔اور بہشتی مقبرہ میں اپنے آقا اور محبوب کے پہلو میں ابدی آرام گاہ میں دعاؤں، اشکوں اور آہوں کے ساتھ سلادئے گئے۔آپ کی وفات ایک فرد کی وفات نہ تھی بلکہ ایک بلند مرتبہ مفسر عظیم الشان محدث ، حاذق طبیب سینکڑوں بیواؤں اور یتیموں کے سر پرست تمام جماعت کے مربی اور محسن بلکہ تمام دنیا کو اپنے گونا گوں کمالات سے متمتع کرنے والے شخص کی وفات تھی۔یہی وجہ ہے کہ آپ کی وفات پر نہ صرف تمام جماعت نے بلکہ غیروں نے بھی آنسو بہائے اور گہرے رنج کا اظہار کیا چنانچہ چند اخبارات کے اقتباسات بطور مثال مندرجہ ذیل ہیں: اخبار ”زمیندار“ رقم طراز ہے: ”مولوی حکیم نورالدین صاحب کی شخصیت اور قابلیت ضرور اس قابل تھی جس کے فقدان پر تمام مسلمانوں کو رنج اور افسوس کرنا چاہیے۔کہا جاتا ہے کہ زمانہ سو برس تک گردش کرنے کے بعد ایک باکمال پیدا کرتا ہے۔الحق اپنے تجر علم وفضل کے لحاظ سے (141)