قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 137
تدرت ثانیہ کا دور اوّل الفردوس عطا فرمائے) حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں چند سوالات لکھ کر دیئے۔جن میں خلیفہ اور انجمن کے اختیارات کی وضاحت طلب کی گئی تھی۔حضرت خلیفہ اول نے علمی تحقیق کے طور پر سوال جماعت کے بعض علماء کو دیئے کہ وہ اس کا جواب دیں۔لیکن خواجہ کمال الدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب وغیرہ کے جوابات نے آپ کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا کیونکہ انہوں نے خلیفہ کی حیثیت ایک مسجد کے ملا کے طور پر ظاہر کی تھی۔اس موقعہ پر آپ نے ہمیشہ کے لئے اختلافات کو روکنے کے لئے 31 جنوری 1909 ء کی تاریخ مقرر کی اور اس دن تقریر کرتے فرمایا: خلافت شرعی مسئلہ ہے اور خلافت کے بغیر جماعت ترقی نہیں کر سکتی۔۔۔۔مجھے کہا جاتا ہے کہ خلیفہ کا کام نماز پڑھا دینا یا جنازہ یا نکاح پڑھانا ہے یا بیعت لے لینا ہے۔یہ جواب دینے والے کی نادانی ہے اس کو تو بہ کرنی چاہیے۔" ( آئینہ صداقت ص 136) اور اس کے بعد خواجہ کمال الدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب سے بیعت لی۔مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ صاحب نے اس وقت بیعت تو کر لی تھی لیکن معلوم ہوتا ہے ان کے دل پورے طور پر صاف نہیں ہوئے تھے کیونکہ انہوں نے اس کے بعد خلافت کے خلاف محاذ برابر جاری رکھا بلکہ ایک سکیم بنائی۔اور صدر انجمن کے کاغذات میں حضرت خلیفہ اول کی بجائے پریذیڈنٹ صاحب کے لفظ استعمال کرنے لگے تا کہ یہ سمجھا جائے کہ انجمن حضور کی باتوں کا احترام ان کے پریذیڈنٹ ہونے کی وجہ سے کرتی رہی نہ کہ با اختیار خلیفہ مسیح ہونے کی وجہ سے لیکن ایک موقعہ پر جب انجمن کے ان ممبروں نے حضرت خلیفہ اسیح کے ایک ارشاد کی خلاف ورزی کی تو حضور نے ان کو جماعت سے نکالنے کا ارادہ کر لیا۔اور عید کا دن اس کے لئے مقرر فرمایا۔لیکن ان لوگوں نے موقع شناسی سے کام لے کر دوبارہ معافی مانگ لی۔مگر اپنی خفیہ ریشہ دوانیوں کو برابر جاری رکھا بلکہ جماعت کے بعض مسلمہ عقائد کے خلاف مداہنت والے عقائد کا اظہار کرنے لگے۔جس پر جماعت ان لوگوں سے عموماً اور خواجہ صاحب سے خصوصاً بہت بدظن ہوگئی۔(137)