قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 136 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 136

قدرت ثانیہ کا دور اوّل محاذ کا قائد بنے والا تھا۔یعنی مولوی محمد علی صاحب ان سے یہ وصیت حاضرین مجلس کے سامنے تین بار پڑھوانے کے بعد نظام خلافت کے حامی و موید حضرت نواب محمد علی خان صاحب کے پاس محفوظ کرادی اور اس طرح اپنی زندگی بھر کی کوششوں میں ایک اہم اور مؤثر کوشش کا اضافہ کر دیا۔قارئین کرام اوپر کے بیان سے بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کی اصل جانشین انجمن تھی یا خلیفہ کیونکہ دونوں کے متعلق نہایت واضح اور غیر مبہم حوالہ جات او پر درج کر دئے گئے ہیں۔اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ن واضح ارشادات و پیشگوئیوں کی موجودگی میں ایسا سوال پیدا ہی کیوں ہوا کہ انجمن خلیفہ المسیح ہے۔اس کا جواب حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی زبانی یہ ہے کہ : ہر ایک روحانی سلسلہ میں کچھ لوگ ایسے بھی داخل ہو جاتے ہیں جو لوگ اس کو سچا سمجھ کر داخل ہوتے ہیں۔لیکن ان کا فیصلہ سطحی ہوتا ہے۔اور حق ان کے دل میں داخل نہیں ہوا ہوتا۔ان کا ابتدائی جوش بعض دفعہ اصل مخلصوں سے بھی ان کو بڑھ کر دکھاتا ہے۔مگر ایمان کی جڑیں مضبوط نہ ہونے کی وجہ سے ہر وقت خطرہ ہوتا ہے کہ وہ مرکز سے ہٹ جائیں اور حق کو پھینک دیں۔ایسے ہی چند لوگ حضرت مسیح موعود کے سلسلہ میں داخل ہوئے اور ان کی وجہ سے اور بہت سے لوگوں کو بھی ابتلا آیا۔‘ ( آئینہ صداقت ص 121 ) ان لوگوں میں سر فہرست خواجہ کمال الدین صاحب کا نام آتا ہے جو بااثر اور وجیہہ آدمی تھے۔اور انہوں نے عیسائیت اور اسلام کے درمیان احمدیت کو ایک پختہ اور نسبتاً قابل اعتماد تحریک سمجھتے ہوئے قبول کیا۔کہ خواجہ صاحب کے خیالات کو اپنانے کی وجہ سے ابتد اڈاکٹر عبد الحکیم کو جماعت سے خارج کیا گیا۔اور آپ ہی کی تجویز تھی کہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تذکرہ نہ ہو۔اسی طرح آپ اپنے لیکچروں میں حضور کا ذکر مضر خیال کرتے تھے۔خواجہ صاحب نے اپنے دوسرے نشانہ کے طور پر مولوی محمد علی صاحب کو منتخب کیا اور ان کو جماعت میں اہمیت دینے کی کوشش کرنے لگے۔ان اختلافات اور فساد کو دیکھتے ہوئے حضرت میر محمد اسحاق صاحب نے (خدا ان کو جنت (136)