قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 135
قدرت ثانیہ کا دور اوّل ”جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے کہ یہ رفض کا مشبہ ہے جو خلافت کی بحث تم چھیڑتے ہو۔یہ تو خدا سے شکوہ کرنا چاہیے کہ بھیرہ کا رہنے والا خلیفہ ہو گیا۔۔۔۔۔ہزار نالائقیاں مجھ پر تھو پو۔مجھ پر نہیں یہ خدا پر لگیں گی۔جس نے مجھے خلیفہ بنایا ہے۔یہ لوگ ایسے ہی ہیں جیسے ( بدر 11 جولائی 1912) رافضی ہیں۔“ نیز آپ نے اپنی خلافت کو آیت استخلاف کے مطابق قرار دیتے ہوئے فرمایا: میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے بھی خدا نے ایسا ہی خلیفہ بنایا ہے جس طرح پر آدم، داؤد اور ابوبکر و عمر کو اللہ تعالیٰ نے خلیفہ بنایا ہے۔“ (بدر 4 جولائی 1913) وو نیز خلیفہ کو جماعت میں آخری اتھارٹی قرار دیتے ہوئے فرمایا: سنو تمہاری نزاعیں تین قسم کی ہیں۔اوّل ان امور اور مسائل کے متعلق ہیں جن کا فیصلہ حضرت صاحب نے کر دیا ہے۔جو حضرت صاحب کے فیصلہ کے خلاف کرتا ہے وہ احمدی نہیں۔جن پر حضرت صاحب نے گفتگو نہیں کی ان پر بولنے کا تمہیں خود کوئی حق نہیں جب تک ہمارے دربار سے تم کو اجازت نہ ملے۔پس جب خلیفہ نہیں بولتا یا خلیفہ کا خلیفہ دنیا میں نہیں آتا۔ان پر رائے زنی نہ کرو۔(احکم 21 / 28 جون 1912ء) اور اس کے مقابل انجمن کی حقیقت آپ کے نزدیک یہ تھی کہ فرمایا : ( آئینہ صداقت صفحہ 134) جس انجمن کو تم جانشین قرار دیتے ہو وہ تو خود بموجب قواعد کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔“ اور ان مسلسل کوششوں کے بعد آپ کی آخری اور زبردست کوشش وہ وصیت ہے جو آپ نے مرض الموت میں کی اور جس میں فرمایا : ”میرا جانشین متقی ہو ہر دلعزیز عالم باعمل۔حضرت صاحب کے پرانے اور نئے احباب سے سلوک چشم پوشی درگز رکو کام میں لاوے۔میں سب کا خیر خواہ تھاوہ بھی سب کا خیر خواہ رہے۔قرآن وحدیث کا درس جاری رہے۔“ اور اس وصیت کو اپنی دور اندیشی اور فراست سے ایک ایسے آدمی سے پڑھوایا جو خلاف خلافت (135)