قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 134
قدرت ثانیہ کا دور اوّل نہیں کرسکتی چہ جائیکہ یہ کہا جائے کہ مجد داعظم حضرت مسیح موعود کی اصل جانشین انجمن مذکور ہے۔یہی وجہ ہے کہ خلافت کے بارے میں حضرت خلیفتہ المسیح الاول نے اپنی انتہائی کوشش اس بات کے لئے صرف کی کہ جماعت میں یہ بات واضح کر دی جائے کہ سلسلہ احمدیہ میں خلافت کا نظام ضروری و لابدی ہے اس لئے آپ نے اپنی زندگی کا مقصد قرار دیا ہوا تھا۔کہ خلافت کی اہمیت و عظمت کما حقہ ثابت ہو جائے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں: اب میں تمہارا خلیفہ ہوں اگر کوئی کہے کہ الوصیت میں حضرت صاحب نے نورالدین کا ذکر نہیں کیا تو ہم کہتے ہیں ایسا بنی آدم اور ابو بکر کا ذکر پہلی پیشگوئیوں میں نہیں۔۔۔۔۔تمام قوم کا میری خلافت پر اجماع ہو گیا۔اب جو اجماع کے خلاف کرنے والا ہے وہ خدا کا مخالف ہے۔۔۔پس تم کان کھول کر سنو۔اب اگر اس معاہدہ کے خلاف کرو گے تو اعقبهم نفاق فی قلوبہم “ کے مصداق بنو گے۔میں نے تمہیں یہ کیوں سنایا اس لئے کہ تم میں سے بعض نافہم ہیں جو بار بار کمزوریاں دکھاتے ہیں۔اگر میں گندہ ہوں تو یوں دعا مانگو کہ خدا مجھے دنیا سے اُٹھالے پھر دیکھو کہ دعا کس پر الٹ کر پڑتی ہے۔تو بہ کرو اور دعا کرو۔“ ( بدر 121اکتوبر 1909ء) اسی طرح آپ انجمن اور خلیفہ کی باہمی پوزیشن بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: حضرت صاحب کی تصنیف میں معرفت کا ایک نکتہ ہے وہ تمہیں کھول کر سناتا ہوں کہ جس کو خلیفہ بنانا تھا اس کا معاملہ تو خدا کے سپرد کر دیا اور ادھر چودہ اشخاص کوفر ما یا کہ تم بحیثیت مجموعی خلیفہ مسیح ہو تمہارا فیصلہ قطعی فیصلہ ہے اور گورنمنٹ کے نزدیک بھی قطعی ہے۔پھر ان چودہ کو باندھ کر ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت کرا دی کہ اسے خلیفہ مانو اور اس طرح تمہیں اکٹھا کر دیا پھر نہ صرف چودہ کا بلکہ تمام قوم کا میری خلافت پر اجماع ہو گیا۔“ ( بدر 21 اکتوبر 1909ء) اسی طرح احمد یہ بلڈنگس لاہور میں تقریر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا: (134)