قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 125
قدرت ثانیہ کا دور اوّل عمارت نہ تھی جس میں سکول با قاعدگی سے جاری رہ سکتا۔نیز اندرون شہر میں جو عمارت سکول کے پاس تھی اس میں مدرسہ احمدیہ کے اجراء کا فیصلہ کیا گیا تھا۔چنانچہ سیکر یٹری صاحب صدر انجمن احمدیہ کے ایک اعلان سے اس وقت کے حالات اور اسکول کی عمارت کی ضرورت پر روشنی پڑتی ہے وہ لکھتے ہیں: ”حضرت خلیفہ اسیح کے ارشاد سے ایک نقشہ عمارت مدرسہ کا جو سکولوں کی عمارتوں میں انشاء اللہ اسی طرح ممتاز ہو گا جس طرح بورڈنگ ہاؤس کی عمارت اس قسم کی عمارتوں میں ممتاز ہے۔تیار کر دیا گیا ہے۔اور اب عنقریب اس کام کو شروع کرنے کی ضرورت در پیش ہے بلکہ اینٹ تیار کرنے کا کام تو کلاً علی اللہ شروع ہو گیا۔ضروریات کا تو یہ حال ہے کہ نہ ہائی سکول کی جماعتیں موجودہ تنگ کمروں میں سما سکتی ہیں نہ مدرسہ احمدیہ کے نئے بورڈروں کے لئے کوئی جگہ رہی ہے اور اس پر دقت یہ ہے کہ کوئی عمارت کرایہ پر اس قسم کی نہیں مل سکتی اس لئے منتظمین کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔اور مدرسہ میں جماعت بندی کے بعد جب نئے لڑکے داخل ہوں گے یعنی شروع اپریل میں تو مکان کی دقت کو رفع کرنے کی کوئی صورت سر دست نظر نہیں آتی کیا منتظمین اب ان کا موں کو ادھورے چھوڑ کر بیٹھ سکتے ہیں۔یا آنے والے طلباء کو کہہ دیں کہ ہمارے پاس " جگہ نہیں اس لئے ہم داخل نہیں کرتے۔۔۔ان حالات میں سکول کی عمارت کا ایک نقشہ تیار کرایا گیا لیکن پھر یہ دیکھتے ہوئے کہ اس نقشہ کی عمارت پر ایک لاکھ روپیہ کے قریب خرچ ہو جائے گا۔مجلس معتمدین صدر انجمن احمد یہ نے اس نقشہ کو مستر د کرتے ہوئے کوئی معمولی نقشہ بنوانا چاہا لیکن حضرت خلیفہ اول نے اس عمارت کی اہمیت و عظمت کے پیش نظر مجلس معتمدین کے اس فیصلہ سے اتفاق نہ کرتے ہوئے وہی نقشہ منظور فرمالیا جس کی عمارت کا تخمینہ ایک لاکھ روپے سے بھی زیادہ تھا۔25 جولائی 1912 کو بروز جمعرات حضرت خلیفہ اول نے تعلیم الاسلام ہائی سکول کی بنیاد رکھی اور حضرت مسیح موعود کے ہر سہ صاحبزادگان سے بھی ایک ایک اینٹ رکھوائی اور اس موقع پر ایک لمبی (125)