قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 115 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 115

قدرت ثانیہ کا دور اوّل نے ان سے درس قرآن مجید کے موقعہ پر سنی ہے غالباً دنیا میں چند آدمی ایسا کرنے کی اہلیت اس وقت رکھتے ہوں گے۔مجھے زیادہ تر حیرت اس بات کی ہوئی کہ ایک اتنی سالہ بوڑھا آدمی صبح سویرے سے لے کر شام تک جس طرح لگا تار سارا دن کام کرتا رہتا ہے وہ متحدہ طور پر آج کل کے تندرست قوی ہیکل دو تین نوجوانوں سے بھی ہونا مشکل ہے۔66 ( بدر 13 مارچ 1913 ء ) 7۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بادیہ میشنان عرب نے یہ خیال کیا کہ وہ ہستی جس کی وجہ سے ہم چندہ وزکوۃ ادا کرتے تھے وہ تو اب دنیا میں نہیں رہی اس لئے اب زکوۃ وغیرہ کی ادائیگی کی ضرورت نہیں۔اس طرح آپ کی وفات کے بعد ہی اسلام کے ایک عظیم الشان رکن کے استخفاف کا خطرہ پیدا ہو گیا۔صورت حال اور بھی تشویشناک ہوگئی جبکہ حضرت اسامہ کالشکر ملک شام کی سرحدوں کی حفاظت اور نصاریٰ کی غارت گری کی روک تھام کے لئے مرکز سے چلا گیا اور مرتدین نے مدینہ کا محاصرہ کر لیا۔مذکورہ بالا گر وہ یعنی مانعین زکوۃ نے اس موقعہ کو غنیمت سمجھتے ہوئے اپنے اس فاسد خیال کو کھلے بندوں شائع کرنا شروع کر دیا۔اسلامی غیرت وحمیت کے پہلے حضرت ابوبکر صدیق اسلام کے ارکان خمسہ میں سے ایک رکن کا استخفاف کسی قیمت پر برداشت کرنے کو تیار نہ تھے حالانکہ اس وقت بعض جلیل القدرصحا بہ بھی فتنہ ارتداد کو دیکھ کر ان لوگوں سے نرمی کی پالیسی پر عمل کرنا چاہتے تھے حتی کہ حضرت عمر فاروق جیسے غیورو بہادر نے بھی ان لوگوں سے نرمی اور ملاطفت کرنے کا مشورہ دیا۔لیکن حضرت ابوبکر عزم واستقلال کے پیکر ان مخالف حالات سے نہ گبھرائے اور بانگ دہل اعلان فرمایا: ترجمہ :۔میں ضرور ان سے جہاد کروں گا خواہ وہ ایک رسی کے برابر بھی خدا تعالیٰ کے حق کی ادائیگی میں کو تا ہی کریں۔ایک اور دوسری روایت ہے: ترجمہ: - بخدا اگر یہ لوگ ایک رسی یا ایک اونٹ بھی جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا (115)