قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 98 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 98

قدرت ثانیہ کا دور اوّل اور چشم پوشی سے عموماً کام لیں۔بہت دعائیں کریں جناب الہی میں گر جانے سے بڑے بڑے برکات اترتے ہیں۔اور آپ لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ کوئی کام ان کی اجازت کے بدوں نہ کریں۔علم کا گھمنڈ کوئی نہ کرے میں نے بھی علوم پڑھے ہیں میں بعض وقت کوئی لفظ بھول بھی جاتا ہوں مگر خدا کے فضل سے خوب سمجھتا ہوں۔بہت پڑھایا بھی ہے اور پڑھاتا بھی ہوں مگر میں نے دیکھا ہے کہ محض علوم کچھ چیز نہیں علم آن بود که نور فراست رفیق اوست۔۔۔دعاؤں سے کام لو اب تم سب میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دو میں تمہارے لئے دعا کرتا ہوں۔پھر بھی دعا کروں گا اللہ تعالیٰ نے موقعہ دیا ( تو )۔( الحكم 14 مارچ 1912 ء ) اس وفد نے دار العلوم ندوہ، علماء فرنگی محلی کے مدارس، مدرسہ جامع العلوم، مدرسہ الہیات کا نپور، رام پور کے مدرسہ حسن بخش ، مدرسه عبد الرب، مدرسه امینیه، مدرسه فتح پوری، مدرسہ عالیہ دیوبند اور گر و کل کانگڑی کے مدرسہ اور کالج کا معائنہ کیا اور 29 اپریل 1912ء کوکلمہ الحکمۃ ضالتۃ المومن کے مطابق متعدد مفید تجربات حاصل کر کے قادیان پہنچا۔اس مدرسہ کے ہیڈ ماسٹر حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب مقرر ہوئے جنہوں نے نہایت محنت اور جانفشانی سے اس مدرسہ کا باحسن انتظام فرمایا۔آپ مدرسہ کے انتظام میں گہری دلچسپی لیتے اور طلبہ کی تعلیمی ترقی کے ساتھ ساتھ اخلاق حسنہ پیدا کرنے میں بھی ہر دم ساعی رہتے تھے۔نیز اس مدرسہ نے جماعت کی تعلیمی ، تربیتی اور تبلیغی خدمات میں گراں قدر تاریخی خدمات سرانجام دی ہیں اور ترقی کی شاندار منازل طے کی ہیں۔(98)