قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 97 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 97

قدرت ثانیہ کا دور اوّل دیا جائے آپ نے ایک موثر اور دل ہلا دینے والا لیکچر دیا اور تمام حاضرین مجلس کو مدرسہ احمدیہ کی افادیت کا قائل کر دیا حتی کہ خود اس مخالف تحریک کے محرک بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ ”ہمارا بھی یہی منشاء تھا۔چنانچہ مجلس معتمدین نے حسب ریزولیشن ( 31/705اکتوبر ) یکم مارچ 1909ء سے مدرسہ احمدیہ کے باقاعدہ اجرا کی منظوری دے دی اور اس کے ابتدائی انتظامات طے کرنے کے لئے ماہرین تعلیم کی ایک کمیٹی مقرر کی جس کے ممبر مندرجہ ذیل تھے : 1 - حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب 2 حضرت مولوی محمد سرور شاہ صاحب -3 حضرت قاضی امیر حسین صاحب -4- حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب اس کمیٹی نے 80 شقوں پر مشتمل ایک مفصل رپورٹ پیش کی جس میں مدرسہ کے سٹاف اور نصاب کے متعلق تجاویز تھیں۔حضرت مولوی شیر علی صاحب کی تحریک پر اس سکول کا نام ”مدرسہ احمدیہ تجویز ہوا۔حضرت خلیفہ اول نے اس مدرسہ کی لائبریری کے لئے اپنے ذاتی کتب خانہ سے بہت سی کتب مرحمت فرما ئیں۔نیز انجمن تفخیذ الاذہان نے بھی اپنی لائبریری مدرسہ احمدیہ کے لئے وقف کر دی۔مدرسہ احمدیہ کے انتظام کو بہتر کرنے کے لئے حضرت خلیفہ اول نے ہندوستان کی تمام مشہور دینی درسگاہوں کے معائنہ کی تجویز فرمائی اور اس مقصد کے لئے 3 اپریل 1912ء کو حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ، حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی، حضرت حافظ روشن علی صاحب، حضرت قاضی سیدامیرحسین صاحب اور مکرم عبدالحی صاحب فاضل عرب کو قادیان سے روانہ کیا۔اس وفد کی روانگی کے وقت آپ نے مندرجہ ذیل اہم اور قیمتی نصائح فرمائیں: میں میاں صاحب کو تم پر امیر مقرر کرتا ہوں کوئی سفر بدوں امیر جائز نہیں اس لئے میاں صاحب کو تمہارا امیر مقرر کیا ہے۔میاں صاحب کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ تقویٰ اللہ (97)