قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 6
ت ثانیہ کا دور اوّل عرض حال مضمون زیر نظر خاکسار کی ایک ایسی کوشش ہے جس پر نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔میرے بزرگ حضرت مولانا شیخ عبد القادر صاحب مرحوم نے اس عنوان پر جو حق تحریر ادا کیا (حیات نور ) اور میرے محترم دوست مولانا دوست محمد صاحب نے جو حق تاریخ ادا کیا ( تاریخ احمدیت) یہ اس سے بہت پہلے کی تحریر ہے۔ایک عرصہ تک اس کتاب کے متعلق یہی خیال رہا کہ ضائع ہو چکی ہے اور مجھے اس کا زیادہ افسوس بھی نہیں تھا کیونکہ اس موضوع پر اس سے بہتر کتب اور مضامین سلسلہ کے لٹریچر میں قیمتی اضافہ کر چکے ہیں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے اس مضمون کی دستیابی ، نظارت اشاعت سے شائع کرنے کی اجازت لجنہ کراچی کی اشاعت کے لئے آمادگی بتاتی ہے کہ محل آمد مرھون بِأوقاتہ ہر کام کے لئے ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔اور صد سالہ خلافت جو بلی سے بہتر اس مضمون کی اشاعت کے لئے اور کون سا موقع ہو سکتا ہے۔جماعت کے سامنے یہ مضمون اس کی خوبیوں کی وجہ سے نہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس خواہش دل میں از بس آرزو ہے کہ اور لوگ بھی مولوی صاحب کے نمونہ پر چلیں۔(ازالہ اوہام ) کو ذہن میں رکھتے ہوئے پیش کیا جارہا ہے اگر ان سطور کے لکھنے والے یا کسی قاری کو حضرت مولانا کی طرح دین حق اور بانی اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان کامل اور توکل علی اللہ نصیب ہو جائے۔اگر کسی کو ویسا عشق قرآن حاصل ہو جائے۔اگر کسی کو خدمت دین کے لئے جانی و مالی قربانی کرنے کا جذبہ پیدا ہو جائے۔اگر عالم باعمل ہونے کے ساتھ ساتھ ویسی ہی اطاعت خاکساری و انکساری حاصل ہو جائے۔اور دل پر از نور یقین ہو جائے تو زہے قسمت وسعادت۔(6)